حدیث نمبر: 1257
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى ، عَنْ أَبِي أُبَيٍّ ابْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ يَعْنِي : عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " سَيَكُونُ أُمَرَاءُ تَشْغَلُهُمْ أَشْيَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا ، فَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ تَطَوُّعًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عنقریب کچھ ایسے حکمران ہوں گے جو کاموں میں مشغول رہیں گے ، اور وہ نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے ( تو تم وقت پہ نماز پڑھ لو ) اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1257
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « سنن ابی داود/الصلاة 10 ( 433 ) ، ( تحفة الأشراف : 5097 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/384 ، 387 ، 2/95 ، 3/24 ، 28 ، 5/315 ، 329 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 433

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 433 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جب امام نماز کو دیر سے پڑھے تو کیا کرنا چاہئے؟`
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد تمہارے اوپر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جنہیں وقت پر نماز پڑھنے سے بہت سی چیزیں غافل کر دیں گی یہاں تک کہ اس کا وقت ختم ہو جائے گا، لہٰذا تم وقت پر نماز پڑھ لیا کرنا، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کے ساتھ بھی پڑھ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اگر تم چاہو۔‏‏‏‏ سفیان نے (اپنی روایت میں) یوں کہا ہے: اگر میں نماز ان کے ساتھ پاؤں تو ان کے ساتھ (بھی) پڑھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تم ان کے ساتھ (بھی) پڑھ لو اگر تم چاہو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 433]
433۔ اردو حاشیہ: ➊ یعنی اگر کوئی متبع سنت اپنی انفرادیت قائم رکھ سکتا ہو اور ایسے لوگوں پر حجت قائم کرتے ہوئے ان کے ساتھ شریک نہ ہوتا ہو، تو جائز ہے اور اگر مل کر دوبارہ پڑھے تو بھی کوئی حرج نہیں۔ یہ نفل ہو گی جیسے اوپر کی احادیث میں گزرا ہے۔
➋ اس حدیث کی پہلی سند میں ایک راوی ہے ابن اخت (بھانجا) عبادہ بن صامت۔ جبکہ صحیح یہ ہے کہ یہ اس کی بیوی کا بیٹا ہے جیسے کہ دوسری سند میں مذکور ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 433 سے ماخوذ ہے۔