حدیث نمبر: 1246
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الدَّهَّانُ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَدَغَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقْرَبٌ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْعَقْرَبَ مَا تَدَعُ الْمُصَلِّيَ ، وَغَيْرَ الْمُصَلِّي ، اقْتُلُوهَا فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بچھو نے نماز میں ڈنک مار دیا ، نماز سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ بچھو پر لعنت کرے کہ وہ نمازی و غیر نمازی کسی کو نہیں چھوڑتا ، اسے حرم اور حرم سے باہر ، ہر جگہ میں مار ڈالو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1246
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 16125 ، ومصباح الزجاجة : 436 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 6/250 ) ( صحیح ) » ( اس کی سند میں حکم بن عبد الملک ضعیف ہیں ، لیکن دوسرے طرق سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´دوران نماز سانپ اور بچھو مارنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بچھو نے نماز میں ڈنک مار دیا، نماز سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ بچھو پر لعنت کرے کہ وہ نمازی و غیر نمازی کسی کو نہیں چھوڑتا، اسے حرم اور حرم سے باہر، ہر جگہ میں مار ڈالو۔‏‏‏‏" [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1246]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حرم سے مراد و ہ علاقہ ہے۔
جس میں شکار کرنا درخت کاٹنا اور گھاس اکھاڑنا منع ہے۔
اس کے علاوہ پوری زمین حل ہے یعنی جہاں یہ پابندیاں نہیں۔

(2)
حرم کی حدود میں اگرچہ جانوروں کا شکار منع ہے۔
تاہم موذی جانوروں کو وہاں بھی قتل کیا جا سکتا ہے۔

(3)
بحیثیت انسان ہونے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی وہ تکالیف آتی تھیں۔
جو دوسرے انسانوں پر آتی ہیں۔
مثلا بیمار ہونا، زخمی ہونا، بھوک، پیاس کی حاجت پیش آنا، غمگین ہونا، خوش ہونا، بھول جاناوغیرہ۔
ان تمام حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال ہمارے لئے اسوہ ہیں۔

(4)
بُرے اور مجرم آدمی کو اس کے جرم اور گناہ کی نسبت سے لعنت کا لفظ بول دینا جائز ہے۔
جیسے قرآن مجید نے جھوٹ بولنے والے پر اور حدیث میں انبیاء اور اولیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنانے والے پر، غیر اللہ کے لئے جانور ذبح کرنے والےپر، والدین کو لعنت کرنے والے پر، بیوی سے خلاف وضع فطری کا ارتکاب کرنے والے اور متعدد دوسرے جرائم کے مرتکب پر لعنت وارد ہے۔
دیکھئے: (سورہ آل عمران، آیت: 61 وصحیح البخاري، الصلاۃ،   باب: 55، حدیث: 436، 435)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1246 سے ماخوذ ہے۔