سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
. بَابٌ في صَلاَةِ النَّافِلَةِ قَاعِدًا باب: نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1228
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ ، فَقَالَتْ : " كَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا ، وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا ، فَإِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا ، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن شقیق عقیلی کہتے ہیں کہ` میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا ، تو انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے ، اور کبھی دیر تک بیٹھ کر نماز پڑھتے ، جب آپ کھڑے ہو کر قراءت کرتے تو رکوع کھڑے ہو کر کرتے ، اور جب بیٹھ کر قراءت کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: غرض نفل میں ہر طرح اختیار ہے چاہے بیٹھ کر پڑھے، چاہے کھڑے ہوکر شروع کرے پھر بیٹھ جائے، چاہے بیٹھ کر شروع کرے پھر کھڑا ہو جائے۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 955 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´بیٹھ کر نماز پڑھنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں کبھی دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور کبھی دیر تک بیٹھ کر، جب کھڑے ہو کر پڑھتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر پڑھتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 955]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں کبھی دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور کبھی دیر تک بیٹھ کر، جب کھڑے ہو کر پڑھتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر پڑھتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 955]
955۔ اردو حاشیہ:
افضل یہ ہے کہ جب قرأت کھڑے ہو کر ہو تو رکوع بھی کھڑے ہو کر ہو اور اگر قرأت بیٹھ کر ہو تو رکوع بھی بیٹھ کر ہو . . . یہ اور اوپر والی صورت یعنی رکعت کا کچھ حصہ کھڑے ہو کر اور کچھ حصہ بیٹھ کر ادا کیا جائے، تو بھی جائز ہے۔
افضل یہ ہے کہ جب قرأت کھڑے ہو کر ہو تو رکوع بھی کھڑے ہو کر ہو اور اگر قرأت بیٹھ کر ہو تو رکوع بھی بیٹھ کر ہو . . . یہ اور اوپر والی صورت یعنی رکعت کا کچھ حصہ کھڑے ہو کر اور کچھ حصہ بیٹھ کر ادا کیا جائے، تو بھی جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 955 سے ماخوذ ہے۔