حدیث نمبر: 1190
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْوِتْرُ حَقٌّ ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِخَمْسٍ ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِثَلَاثٍ ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِوَاحِدَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وتر حق ( ثابت ) ہے ، لہٰذا جس کا جی چاہے پانچ رکعت وتر پڑھے ، اور جس کا جی چاہے تین رکعت پڑھے ، اور جس کا جی چاہے ایک رکعت پڑھے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1190
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 1711 | سنن نسائي: 1712 | سنن نسائي: 1713 | سنن ابي داود: 1422 | بلوغ المرام: 293

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´وتر میں تین، پانچ، سات اور نو رکعات پڑھنے کا بیان۔`
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وتر حق (ثابت) ہے، لہٰذا جس کا جی چاہے پانچ رکعت وتر پڑھے، اور جس کا جی چاہے تین رکعت پڑھے، اور جس کا جی چاہے ایک رکعت پڑھے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1190]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1) (الوترحق)
سے بعض علماء نے وتر کے وجوب پر استدلال کیا ہے حالانکہ یہی لفظ جمعے کے غسل کےلئے بھی استعمال ہوا ہے۔
لیکن اسے واجب نہیں کہاجاتا۔
تاہم اس حدیث کی بنا پر وتر کوسنت مؤکدہ تو سمجھا ہی جا سکتا ہے۔

(2)
ایک سلام سے پانچ وتر پڑھے بھی جا سکتے ہیں۔
اورتین وتر بھی
(4)
تین وتر پڑھنے کا ارادہ ہوتو پہلے دو رکعت پڑھ کر سلام پھیرا جائے۔
پھر ایک وتر پڑھا جائے۔
یہ تین وتر پڑھنے کا افضل طریقہ ہے۔
یا پھر تین رکعتیں ایک سلام سے پڑھی جایئں جن میں دو رکعت کے بعد تشہد نہ پڑھا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1190 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1422 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´وتر میں کتنی رکعت ہے؟`
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وتر ہر مسلمان پر حق ہے جو پانچ پڑھنا چاہے پانچ پڑھے، جو تین پڑھنا چاہے تین پڑھے اور جو ایک پڑھنا چاہے ایک پڑھے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1422]
1422. اردو حاشیہ: مذکورہ بالا روایات میں وتر کی تعداد ایک ’تین‘ پانچ کا ذکر ہے، جبکہ صحیح مسلم، سنن ابن ماجہ اور سنن النسائی میں سات، نو اور گیارہ رکعت کا ذکر بھی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیں [صحيح مسلم، صلاة المسافرين، حديث: 736-737-738 وسنن النسائي، قيام الليل، حديث: 1697-1698 -1705-1707-1710 وسنن ابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث: 1190-1191-1192]
ہمارے ہاں اکثر لوگ تین وتر پڑھتے ہیں اور وہ بھی سنت کے خلاف اور ایک رکعت وتر کو صحیح نہیں سمجھتے اور ایک وتر پڑھنے والے کو بھی اچھا خیال نہیں کرتے، حالانکہ ایک رکعت وتر حدیث رسول سے ثابت ہے۔ تین رکعت وتر پڑھنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا جائے اور پھر ایک رکعت وتر الگ پڑھا جائے۔ دیکھیے [سنن ابن ماجة، حدیث: 1177]
تاہم ایک سلام کے ساتھ درمیان میں تشہد کیے بغیر بھی جائز ہے۔ درمیان میں تشہد بیٹھنے سے نماز مغرب سے مشابہت ہو جاتی ہے اور نبی کریمﷺ نے نماز مغرب کی مشابہت سے منع فرمایا ہے۔ دیکھیے: [سنن الدار قطني: 2؍27،25 وصحیح ابن حبان، حدیث:280]
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1422 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1422 کی شرح از الشیخ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری ✍️
ایک رکعت وتر
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وتر ہر مسلمان پر حق ہے جو پانچ پڑھنا چاہے پانچ پڑھے، جو تین پڑھنا چاہے تین پڑھے اور جو ایک پڑھنا چاہے ایک پڑھے۔[سنن ابي داؤد 1422]
فوائد و مسائل: وتر حق ہے، جو چاہے سات پڑھے، جو چاہے پانچ پڑھے، جو چاہے تین پڑھے، اور جو چاہے ایک پڑھے۔ [سنن ابي داؤد 1422، سنن النسائي: 1711، سنن ابن ماجه: 1190، وسندہ صحيح]
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (2410) اور حافظ ابن الملقن (البدر المنیر: 296/4) نے صحیح قرار دیا ہے۔
امام حاکم رحمہ اللہ نے بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: «أن النبی صلى الله عليه وسلم أوتر بركعة۔»
نبی اکر م صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت وتر ادا فرمایا۔ [سنن الدارقطني: 1656، وسندہ صحيحٌ]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بیان کرتے ہیں: «أوتر بركعة۔»
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت وتر پڑھا۔ [صحيح ابن حبان: 2424۔ وسنده صحيحٌ]
ایک تین، پانچ اور سات وتر احناف کی نظر میں
ایک، تین، پانچ اور سات رکعات وتر پڑھناجائز ہیں۔
اب ہم مقلدین کی معتبر کتب کے حوالہ جات پیش کرتے ہیں: ➊ مشہور حنفی جناب عبدالحیئ لکھنوی صاحب لکھتے ہیں: «وقد صحّ من جمع من الصحابة أنّهم أوتروا بواحدة، دون تقدّم نفل قبلها .»
صحابہ کرام کی ایک جماعت سے یہ بات ثابت ہے کہ انہوں نے پہلے کوئی نفل پڑھے بغیر ایک رکعت وتر اداکیا۔ [التعليق الممجد للكنوي: 508/1]
➋ علامہ سندھی حنفی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں: «هذا صريح فى جواز الوتر بواحدة .»
یہ حدیث ایک وتر کے جائز ہونے میں واضح ہے۔ [حاشية السندي على النسائي: 30/2]
درج بالا اقتباس ۔۔۔، حدیث/صفحہ نمبر: 22 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1422 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
ایک رکعت وتر پڑھنا بھی صحیح ہے اور تین رکعت وتر پڑھنا بھی صحیح ہے۔

دیکھئے: [سنن ابي داود 1422 سنن النسائي 1712 اور هدية المسلمين ص62 ح26]


سیدنا ابوایو ب الانصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص تین وتر پڑھنا چاہے تو تین پڑھے اور جو شخص ایک وتر پڑھنا چاہے تو ایک وتر پڑھے۔ [سنن النسائي 238/3۔ 239 ح1713، وسنده صحيح]


تین رکعت وتر پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیں پھر ایک وتر پڑھیں۔ دیکھئے: [صحيح مسلم ج1 ص254 ح738، صحيح ابن حبان، الاحسان: 2426 اور هدية المسلمين ص62، 63]


ایک روایت میں آیا ہے کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی تین رکعتیں پڑھتے تھے اور سلام صرف پخری رکعت کے بعد پھیرتے تھے۔ الخ [المستدرك للحاكم ج1 ص304 ح1140]

اس روایت کی سند قتادہ مدلس کی تدلیس (عن) کی وجہ سے ضعیف ہے۔

ایک راوی پر جرح کرتے ہوئے ماسٹر امین اوکاڑوی نے کہا: ’’اولا تو یہ سند سخت ضعیف ہے کیونکہ سند میں سعید بن ابی عروبہ مختلط ہے اور قتادہ مدلس ہے۔ [جزء رفع اليدين كا ترجمه و تشريح ص289 ح29 تا 31]


المستدرک [304/1 ح1139] میں اس کی تائید والی روایت میں سعید بن ابی عرو بہ اور قتادہ دونوں ہیں اور دونوں نے «عن» کے ساتھ روایت کی ہے۔

لہٰذا یہ تائیدی روایت بھی مردود ہے۔


یہ کہنا کہ ’’وتر کی ایک رکعت کسی حدیث سے ثابت نہیں بھی بالکل جھوٹ ہے۔


خلیل احمد سہارنپوری دیو بندی نے لکھا ہے: ’’وتر کی ایک رکعت احادیث صحاح میں موجود ہے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہما صحابہ رضی اللہ عنہ اس کے مقرر اور مالک رحمہ الله، شافعی رحمہ الله و احمد رحمہ الله کا وہ مذہب پھر اس پر طعن کرنا مؤلف کا ان سب پر طعن ہے کہو اب ایمان کاکیا ٹھکانا۔ [براهين قاطعه ص7]

تفصیل کے لئے دیکھئے ہدیۃ المسلمین (ح26)

… اصل مضمون …

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص77
درج بالا اقتباس فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، حدیث/صفحہ نمبر: 77 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 293 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´نفل نماز کا بیان`
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’ وتر ہر مسلمان پر حق ہے (اس کا ادا کرنا ضروری ہے) جسے پانچ وتر پڑھنا پسند ہو تو ایسا کرے اور جسے تین وتر پسند ہوں تو وہ اس طرح کرے اور جسے ایک وتر پڑھنا پسند ہو تو وہ ایسا کرے۔
ترمذی کے علاوہ اسے چاروں نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے البتہ نسائی نے اس کے موقوف ہونے کو ترجیح دی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 293»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الصلاة، باب كم الوتر؟، حديث:1422، والنسائي، قيام الليل، حديث:1711، وابن ماجه، إقامة الصلوات، حديث:1190، وابن حبان (الموارد)، حديث:670.* المرفوع والموقوف، صحيحان كلاهما، ولم أرلمضعفه حجة.»
تشریح: 1. وتر واجب ہے یا سنت؟ اس میں ائمہ کا اختلاف ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اسے واجب کہتے ہیں مگر جمہور علماء اسے سنت قرار دیتے ہیں۔
’’وتر کا پڑھنا حق ہے‘‘ کے الفاظ وجوب پر تو دلالت نہیں کرتے‘ البتہ اس کی اہمیت پر ضرور دال ہیں۔
2.ایک دوسری حدیث میں بھی ہے: «اَلْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَّمْ یُوتِرْ فَلَیْسَ مِنَّا» ’’وتر برحق ہے‘ جو وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں۔
‘‘ (سنن أبي داود‘ الوتر‘ باب فیمن لم یوتر‘ حدیث:۱۴۱۹‘ و مسند أحمد:۵ /۳۵۷) اس حدیث کو بعض محققین نے شواہد کی بنا پر حسن لغیرہ قرار دیا ہے۔
دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۳۸ / ۱۲۷‘ ۱۲۸) اس حدیث میں بھی وتر پڑھنے کی تاکید بیان کی گئی ہے مگر وجوب کا بیان نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر و حضر میں وتر پڑھے ہیں اور سواری پر بھی۔
دیکھیے: (صحیح البخاري‘ الوتر‘ باب الوتر علی الدابۃ‘ وباب الوتر في السفر‘ حدیث:۹۹۹‘ ۱۰۰۰) اور سواری پر ادا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وتر واجب نہیں۔
3.اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وتر ایک‘ تین‘ پانچ سب درست ہیں۔
احناف کا صرف تین وتر پر اکتفا کرنا صحیح اور صریح روایات کی بنا پر درست نہیں۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 293 سے ماخوذ ہے۔