حدیث نمبر: 1186
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِهِ ، وَأَوْسَطِهِ ، وَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصہ میں کبھی شروع میں ، اور کبھی بیچ میں ، صبح صادق کے طلوع تک نماز وتر پڑھا ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1186
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10145 ، ومصباح الزجاجة : 914 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/78 ، 86 ، 104 ، 137 ، 143 ، 147 ) ( حسن صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´رات کے آخری حصے میں وتر پڑھنے کا بیان۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصہ میں کبھی شروع میں، اور کبھی بیچ میں، صبح صادق کے طلوع تک نماز وتر پڑھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1186]
اردو حاشہ:
فائدہ: صبح صادق تک وتر ختم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ رات کے بالکل آخری حصے میں وتر پڑھتے حتیٰ کہ جب فارغ ہوئے تو اذان کا وقت ہو گیا۔
یعنی فجر کی اذان سے پہلے وتر پڑھے۔
یہ نماز وتر کا آخری وقت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1186 سے ماخوذ ہے۔