حدیث نمبر: 1183
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سُئِلَ عَنِ الْقُنُوتِ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ ، فَقَالَ : " كُنَّا نَقْنُتُ قَبْلَ الرُّكُوعِ وَبَعْدَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ان سے نماز فجر میں دعائے قنوت کے متعلق پوچھا گیا کہ کب پڑھی جائے ؟ تو انہوں نے کہا : ہم رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد دونوں طرح دعائے قنوت پڑھا کرتے تھے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: محدثین نے اسی پر عمل کیا ہے، اور نماز فجر کی طرح وتر میں بھی یہ جائز رکھا ہے کہ خواہ رکوع سے پہلے قنوت پڑھے یا رکوع کے بعد، مگر رکوع کے بعد پڑھنے کی حدیثیں زیادہ قوی اور زیادہ صحیح ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1183
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 687 ومصباح الزجاجة : 418 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأذان 126 ( 798 ) ، صحیح مسلم/المساجد 54 ( 677 ) ، سنن ابی داود/الصلاة 345 ( 1444 ) ، سنن النسائی/التطبیق 27 ( 1072 ) ، مسند احمد ( 3/217 ، 232 ) ، سنن الدارمی/الصلاة 216 ( 1637 ) ( صحیح ) ( یہ حدیث مکرر ہے ملاحظہ ہو : 1243 ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھنے کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے نماز فجر میں دعائے قنوت کے متعلق پوچھا گیا کہ کب پڑھی جائے؟ تو انہوں نے کہا: ہم رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد دونوں طرح دعائے قنوت پڑھا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1183]
اردو حاشہ:
فائده:
یہ بعض صحابہ رضوان للہ عنہم اجمعین کا عمل ہے۔
ورنہ نبی کریمﷺ کا عمل قنوت نازلہ میں رکوع کے بعد ہی پڑھنے کا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1183 سے ماخوذ ہے۔