حدیث نمبر: 1173
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَأَبُو يُوسُفَ الرَّقِّيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّيْدَلَانِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَأَلْنَا عَائِشَةَ : بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَتْ : " كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى : بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَفِي الثَّانِيَةِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَفِي الثَّالِثَةِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَ الْمُعَوِّذَتَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبدالعزیز بن جریج کہتے ہیں کہ` ہم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں کون سی سورتیں پڑھتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت میں : «سبح اسم ربك الأعلى» دوسری میں «قل يا أيها الكافرون» اور تیسری میں «قل هو الله أحد» اور معوذتین پڑھتے تھے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ نبی اکرم ﷺ وتر کی تین رکعتیں پڑھتے تھے، پہلی رکعت میں «سبح اسم ربك الأعلى» کی تلاوت فرماتے، اور دوسری رکعت میں «قل يا أيها الكافرون» کی، اور تیسری رکعت میں: «قل هو الله أحد» اور معوذتین پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1173
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (1424) ترمذي (463), خصيف ضعيف،ضعفه الجمهور, ولو شاھد حسن لذاته عند ابن حبان (2423) والحاكم (1/305،2/520) دون قوله: ’’والمعوذتين‘‘ وھو يغني عنه, وانظر مشكاة المصابيح (1/420 ح 1269), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 419
تخریج حدیث « سنن ابی داود/الصلاة 339 ( 1424 ) ، سنن الترمذی/الصلاة 223 ( 463 ) ، ( تحفة الأشراف : 16306 ) وقد أخرجہ : مسند احمد ( 6/ 227 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 463

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´وتر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔`
عبدالعزیز بن جریج کہتے ہیں کہ ہم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں کون سی سورتیں پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت میں: «سبح اسم ربك الأعلى» دوسری میں «قل يا أيها الكافرون» اور تیسری میں «قل هو الله أحد» اور معوذتین پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1173]
اردو حاشہ:
فائدہ: مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
اور مذید لکھا ہے کہ اس کے شواہد بھی ہیں۔
لیکن ان شواہد کی بابت صحت اور ضعف کا حکم نہیں لگایا۔
اسی طرح سنن ابی داؤد (حدیث: 1424)
کی تحقیق میں لکھتے ہیں کہ معوذتین کے علاوہ بقیہ حدیث کے شواہد موجود ہیں۔
نیز شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
دیکھئے: (صحیح ابوداؤد۔ (مفصل)
حدیث: 1280)
 اسی طرح الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد بن حنبل کے محققین نے بھی اسے معوذتین پڑھنے کے سوا صحیح لغیرہ قراردیا ہے۔
دیکھئے: (الموسوعة الحدیثیة مسند أحمد، 80، 79/42)
الحاصل مذکورہ روایت معوذتین (سورۃ الفلق۔
اورسورۃ الناس)
کے علاوہ قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
کیونکہ باقی تین سورتوں کے پڑھنے کا ذکرگزشتہ احادیث (1172، 1171)
میں بھی ملتا ہے۔
جن کو ہمارے فاضل محقق نے بھی صحیح قرار دیا ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1173 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 463 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´وتر میں کون سی سورتیں پڑھی جائیں؟`
عبدالعزیز بن جریج کہتے ہیں کہ ہم نے عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں کیا پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: پہلی رکعت میں «‏سبح اسم ربك الأعلى» ، دوسری میں «‏قل يا أيها الكافرون‏» ، اور تیسری میں «‏قل هو الله أحد» اور معوذتین ۱؎ پڑھتے تھے۔ [سنن ترمذي/أبواب الوتر​/حدیث: 463]
اردو حاشہ: 1؎: یعنی ' قل أعوذ بربّ الفلق' اور' قل أعوذ بربّ الناس' نوٹ:

(متابعات وشواہد کی بناپر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ عبد العزیز کی ملاقات عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہیں ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 463 سے ماخوذ ہے۔