حدیث نمبر: 1165
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ فِي مَسْجِدِنَا ، ثُمَّ قَالَ : " ارْكَعُوا هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ فِي بُيُوتِكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس بنو عبدالاشہل ( قبیلہ ) میں آئے ، اور ہمیں ہماری مسجد میں مغرب پڑھائی ، پھر فرمایا : ” یہ دونوں رکعتیں ( مغرب کے بعد کی سنتیں ) اپنے گھروں میں پڑھو “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سنتوں کا گھر میں ادا کرنا افضل ہے، کیونکہ اس میں ریا و نمود سے بچاؤ ہوتا ہے، اور گھر میں برکت بھی ہوتی ہے، افسوس ہے کہ ہمارے زمانہ میں لوگوں نے اس سنت کو چھوڑ دیا ہے، اور سنتوں کو مسجد میں ہی پڑھا کرتے ہیں، اور جمعہ کے بعد ایک فیصد بھی ایسا نہیں دیکھا جاتا، جو سنتیں گھر میں جا کر ادا کرے جیسے نبی اکرم ﷺ کا طریقہ تھا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1165
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3584 ، ومصباح الزجاجة : 414 ) ( حسن ) » ( عبد الوہاب بن الضحاک متروک ہے ، اور اسماعیل بن عیاش کی روایت اہل شام کے علاوہ سے ضعیف ہے ، اور محمد بن اسحاق مدلس ہیں ، اور روایت عنعنہ سے کی ہے ، لیکن حدیث کی تخریج ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں ( 1/129/2 ) محمد بن اسحاق کے طریق سے کی ہے ، اس لئے عبد الوہاب اور ابن عیاش کی متابعت ہو گئی ، نیز مسند احمد : 5/427 ) میں ابن اسحاق سے تحدیث کی تصریح ہے ، لیکن وہ محمود بن لبید کی حدیث ہے ، اس وجہ سے یہ حسن ہے ، ملاحظہ ہو : صحیح ابی داود : 1176 ، و مصباح الزجاجة : 418 ، تحقیق الشہری )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مغرب کے بعد کی دو رکعت سنت کا بیان۔`
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس بنو عبدالاشہل (قبیلہ) میں آئے، اور ہمیں ہماری مسجد میں مغرب پڑھائی، پھر فرمایا: یہ دونوں رکعتیں (مغرب کے بعد کی سنتیں) اپنے گھروں میں پڑھو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1165]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
قائد اور بڑے عالم کوچاہیے کہ اپنے زیر اثر علاقے کا دورہ کرے تاکہ عوام کے حالات سے براہ راست واقف ہوسکے۔

(2)
جب مسجد میں بڑا عالم تشریف لے آئے۔
تو مسجد کے امام کو چایے کہ اسے نماز پڑھانے کاموقع دے۔

(3)
سنتیں گھر میں پڑھنا افضل ہے۔
تاہم بعض احادیث سے اشارہ ملتا ہے کہ مسجد میں پڑھنا بھی جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1165 سے ماخوذ ہے۔