سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
. بَابُ : مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ باب: مغرب کے بعد کی دو رکعت سنت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1164
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب پڑھتے ، پھر میرے گھر واپس آتے ، اور دو رکعت پڑھتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مغرب کے بعد کی دو رکعت سنت کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب پڑھتے، پھر میرے گھر واپس آتے، اور دو رکعت پڑھتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1164]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب پڑھتے، پھر میرے گھر واپس آتے، اور دو رکعت پڑھتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1164]
اردو حاشہ: 1۔
مغرب کے بعد کی یہ سنتیں موکدہ ہیں۔
جن کی فضیلت اور اہمیت حدیث نمبر 1140 میں بیان ہوئی ہے۔ 2۔
سنتیں اور نوافل گھر میں ادا کرنا افضل ہے۔
سوائے تحیۃ المسجد کے جومسجد کے ساتھ مخصوص ہے۔
مغرب کے بعد کی یہ سنتیں موکدہ ہیں۔
جن کی فضیلت اور اہمیت حدیث نمبر 1140 میں بیان ہوئی ہے۔ 2۔
سنتیں اور نوافل گھر میں ادا کرنا افضل ہے۔
سوائے تحیۃ المسجد کے جومسجد کے ساتھ مخصوص ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1164 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1758 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں کی محافظت کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے کی چار رکعتیں اور فجر سے پہلے کی دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔ شعبہ کے جن تلامذہ نے اس حدیث کو روایت کیا ہے ان میں سے اکثر نے عثمان بن عمر کی مخالفت کی ہے، ان لوگوں نے مسروق کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1758]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے کی چار رکعتیں اور فجر سے پہلے کی دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔ شعبہ کے جن تلامذہ نے اس حدیث کو روایت کیا ہے ان میں سے اکثر نے عثمان بن عمر کی مخالفت کی ہے، ان لوگوں نے مسروق کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1758]
1758۔ اردو حاشیہ: امام ابوجعفر طبری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اکثر عمل ظہر سے پہلے چار رکعت کا تھا۔ کبھی کبھار آپ دو رکعت بھی پڑھ لیتے تھے۔ مزید دیکھیے: (فتح الباری، تحت شرح الحدیث: 1182)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1758 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1759 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں کی محافظت کا بیان۔`
ابراہیم بن محمد سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد کو بیان کرتے سنا کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے کی چار رکعتیں، اور فجر سے پہلے کی دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔ ابو عبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ہمارے نزدیک صحیح یہی ہے، اور عثمان بن عمر کی (پچھلی) روایت غلط ہے، واللہ اعلم۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1759]
ابراہیم بن محمد سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد کو بیان کرتے سنا کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے کی چار رکعتیں، اور فجر سے پہلے کی دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔ ابو عبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ہمارے نزدیک صحیح یہی ہے، اور عثمان بن عمر کی (پچھلی) روایت غلط ہے، واللہ اعلم۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1759]
1759۔ اردو حاشیہ: اس اختلاف کی مزید تفصیل کے لیے فتح الباری: 3؍59، حدیث: 1182 ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1759 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1182 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1182. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ظہر سے پہلے چار سنتیں اور نماز فجر سے پہلے دو سنتیں کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔ شعبہ سے روایت کرنے میں ابن ابی عدی اور عمرو نے یحییٰ بن سعید کی متابعت کی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1182]
حدیث حاشیہ: یہ حدیث باب کے مطابق نہیں، کیونکہ باب میں دو رکعتیں ظہر سے پہلے پڑھنے کا ذکر ہے اور شاید ترجمہ باب کا یہ مطلب ہو کہ ظہر سے پہلے دوہی رکعتیں پڑھنا ضروری نہیں، چار بھی پڑھ سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1182 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1182 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1182. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ظہر سے پہلے چار سنتیں اور نماز فجر سے پہلے دو سنتیں کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔ شعبہ سے روایت کرنے میں ابن ابی عدی اور عمرو نے یحییٰ بن سعید کی متابعت کی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1182]
حدیث حاشیہ:
حدیث ابن عمر میں نماز ظہر سے پہلے دو سنت اور حدیث عائشہ ؓ میں ظہر سے پہلے چار سنت پڑھنے کا ذکر ہے۔
ہر ایک نے اپنی اپنی معلومات کے مطابق بیان کیا ہے، اس لیے دونوں میں کوئی تضاد نہیں۔
رسول اللہ ﷺ بعض اوقات دو رکعت پڑھتے تھے جسے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا ہے جبکہ آپ نے چار رکعت بھی ادا کی ہیں جسے حضرت عائشہ ؓ نے ذکر فرمایا ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ آپ مسجد میں دو رکعت پڑھتے ہوں اور اگر گھر پڑھتے ہوں تو چار رکعت ادا کرتے ہوں، جیسا کہ ایک روایت میں ہے، حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ اپنے گھر میں ظہر سے پہلے چار رکعت پڑھتے، پھر مسجد میں تشریف لے جاتے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ رسول اللہ ﷺ گھر میں دو رکعت پڑھ کر مسجد میں جاتے ہوں، پھر مسجد میں دو رکعت ادا کرتے ہوں۔
اس بنا پر حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے صرف مسجد میں ادا کردہ رکعات کو بیان فرمایا جبکہ حضرت عائشہ ؓ نے مسجد اور گھر کی رکعات کو بیان فرمایا ہے۔
بہرحال آپ اکثر طور پر چار رکعات پڑھتے تھے اور کبھی کبھار دو رکعت پر اکتفا کر لیتے تھے۔
(فتح الباري: 76/3)
حدیث ابن عمر میں نماز ظہر سے پہلے دو سنت اور حدیث عائشہ ؓ میں ظہر سے پہلے چار سنت پڑھنے کا ذکر ہے۔
ہر ایک نے اپنی اپنی معلومات کے مطابق بیان کیا ہے، اس لیے دونوں میں کوئی تضاد نہیں۔
رسول اللہ ﷺ بعض اوقات دو رکعت پڑھتے تھے جسے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا ہے جبکہ آپ نے چار رکعت بھی ادا کی ہیں جسے حضرت عائشہ ؓ نے ذکر فرمایا ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ آپ مسجد میں دو رکعت پڑھتے ہوں اور اگر گھر پڑھتے ہوں تو چار رکعت ادا کرتے ہوں، جیسا کہ ایک روایت میں ہے، حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ اپنے گھر میں ظہر سے پہلے چار رکعت پڑھتے، پھر مسجد میں تشریف لے جاتے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ رسول اللہ ﷺ گھر میں دو رکعت پڑھ کر مسجد میں جاتے ہوں، پھر مسجد میں دو رکعت ادا کرتے ہوں۔
اس بنا پر حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے صرف مسجد میں ادا کردہ رکعات کو بیان فرمایا جبکہ حضرت عائشہ ؓ نے مسجد اور گھر کی رکعات کو بیان فرمایا ہے۔
بہرحال آپ اکثر طور پر چار رکعات پڑھتے تھے اور کبھی کبھار دو رکعت پر اکتفا کر لیتے تھے۔
(فتح الباري: 76/3)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1182 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 730 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
عبداللہ بن شفیق بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کی نفل نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ آپﷺ میرے گھر میں ظہر سے پہلے چار رکعات پڑھتے، پھر گھر سے نکلتے اور لوگوں کو نماز پڑھاتے، پھر گھر واپس آتے اور دو رکعت ادا فرماتے، اور آپﷺ لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھاتے پھر گھر آتے اور دو رکعت نماز پڑھتے اور لوگوں کوعشاء کی نماز پڑھاتے اور میرے گھر آتے اور دو رکعت پڑھتے اور رات کو وتر سمیت نو رکعات پڑھتے، اور... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1699]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: بعض دفعہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز گیارہ رکعت سے کم پڑھتے تھے اسی طرح بعض دفعہ آپﷺ نماز میں طویل قرآءت کھڑے ہو کر کرتے اور اس کے بعد رکوع اور سجدہ کرتے اور بعض دفعہ آپﷺ نماز میں طویل قرآءت بیٹھے بیٹھے کرتے، پھر رکوع کے لیے اٹھتے نہیں تھے بلکہ بیٹھے بیٹھے رکوع اور سجدہ کر لیتے اور بعض دفعہ آپﷺ قرآءت کا کافی حصہ بیٹھے بیٹھے پڑھتے اور پھر آخرمیں تیس یا چالیس آیات کھڑے ہو کر پڑھتے پھر اس کے بعد رکوع اور سجود کرتے، یہ آخری عمر کا فعل ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 730 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1251 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´نفل نماز کے ابواب اور سنت کی رکعات کا بیان۔`
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ ظہر سے پہلے میرے گھر میں چار رکعتیں پڑھتے، پھر نکل کر لوگوں کو نماز پڑھاتے، پھر واپس آ کر میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے، اور مغرب لوگوں کے ساتھ ادا کرتے اور واپس آ کر میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے، پھر آپ انہیں عشاء پڑھاتے پھر میرے گھر میں آتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور رات میں آپ نو رکعتیں پڑھتے، ان میں وتر بھی ہوتی، اور رات میں آپ کبھی تو دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور کبھی دیر تک بیٹھ کر اور جب کھڑے ہو کر قرآت فرماتے تو رکوع و سجود بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر قرآت کرتے تو رکوع و سجود بھی بیٹھ کر کرتے اور جب فجر طلوع ہو جاتی تو دو رکعتیں پڑھتے، پھر نکل کر لوگوں کو فجر پڑھاتے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1251]
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ ظہر سے پہلے میرے گھر میں چار رکعتیں پڑھتے، پھر نکل کر لوگوں کو نماز پڑھاتے، پھر واپس آ کر میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے، اور مغرب لوگوں کے ساتھ ادا کرتے اور واپس آ کر میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے، پھر آپ انہیں عشاء پڑھاتے پھر میرے گھر میں آتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور رات میں آپ نو رکعتیں پڑھتے، ان میں وتر بھی ہوتی، اور رات میں آپ کبھی تو دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور کبھی دیر تک بیٹھ کر اور جب کھڑے ہو کر قرآت فرماتے تو رکوع و سجود بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر قرآت کرتے تو رکوع و سجود بھی بیٹھ کر کرتے اور جب فجر طلوع ہو جاتی تو دو رکعتیں پڑھتے، پھر نکل کر لوگوں کو فجر پڑھاتے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1251]
1251۔ اردو حاشیہ:
موکدہ سنتیں گھر میں پڑھنی افضل ہیں، اس سے گھر میں برکت اترتی اور گھر والوں اور بچوں کو نماز اور عبادت کی ترغیب ملتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مسلمانوں کو گھروں میں سنتیں پڑھنے کی تاکید ہے۔
موکدہ سنتیں گھر میں پڑھنی افضل ہیں، اس سے گھر میں برکت اترتی اور گھر والوں اور بچوں کو نماز اور عبادت کی ترغیب ملتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مسلمانوں کو گھروں میں سنتیں پڑھنے کی تاکید ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1251 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1253 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´نفل نماز کے ابواب اور سنت کی رکعات کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر (کی فرض نماز) سے پہلے چار رکعتیں اور صبح کی (فرض نماز) سے پہلے دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1253]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر (کی فرض نماز) سے پہلے چار رکعتیں اور صبح کی (فرض نماز) سے پہلے دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1253]
1253۔ اردو حاشیہ:
ظہر سے پہلے اور بعد میں دو دو اور چار چار رکعات دونوں طرح صحیح ہے۔ دیکھیے: حدیث سنن ابي داود: [1269]۔
ظہر سے پہلے اور بعد میں دو دو اور چار چار رکعات دونوں طرح صحیح ہے۔ دیکھیے: حدیث سنن ابي داود: [1269]۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1253 سے ماخوذ ہے۔