حدیث نمبر: 116
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ ، أَخْبَرَنِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ الَّتِي حَجَّ ، فَنَزَلَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ فَأَمَرَ الصَّلَاةَ جَامِعَةً ، فَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : " أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ؟ " قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : " أَلَسْتُ أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ ؟ " قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : " فَهَذَا وَلِيُّ مَنْ أَنَا مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، اللَّهُمَّ عَادِ مَنْ عَادَاهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر آئے ، آپ نے راستے میں ایک جگہ نزول فرمایا اور عرض کیا : «الصلاة جامعة» ، یعنی سب کو اکٹھا ہونے کا حکم دیا ، پھر علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : ” کیا میں مومنوں کی جانوں کا مومنوں سے زیادہ حقدار نہیں ہوں ؟ “ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : کیوں نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں ہر مومن کا اس کی جان سے زیادہ حقدار نہیں ہوں ؟ “ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : کیوں نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ ( علی ) دوست ہیں اس کے جس کا میں دوست ہوں ، اے اللہ ! جو علی سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھ ، جو علی سے عداوت رکھے تو اس سے عداوت رکھ “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یہ حدیث نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع سے لوٹتے وقت غدیرخم میں بیان فرمائی، یہ مکہ اور مدینہ کے بیچ جحفہ میں ایک مقام کا نام ہے، اس حدیث سے علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلافصل پر استدلال درست نہیں: ۱۔ کیونکہ اس کے لئے شیعہ مذہب میں حدیث متواتر چاہیے، اور یہ متواتر نہیں ہے ۲۔ ولی اور مولیٰ مشترک المعنی لفظ ہیں، اس لئے کوئی خاص معنی متعین ہو یہ ممنوع ہے، ۳۔ امام معہود و معلوم کے لئے مولیٰ کا اطلاق اہل زبان کے یہاں مسلم نہیں، ۴۔ خلفاء ثلاثہ (ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم) کی تقدیم اجماعی مسئلہ ہے، اور اس اجماع میں خود علی رضی اللہ عنہ شامل ہیں، ۵۔ اگر اس سے خلافت بلافصل مراد ہوتی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہرگز اس سے عدول نہ کرتے، وہ اہل زبان اور منشاء نبوی کو ہم سے بہتر جاننے والے تھے، ۶۔ اس حدیث میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ سے محبت کی جائے اور ان کے بغض سے اجتناب کیا جائے، اور یہ اہل سنت و الجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بالخصوص امہات المومنین اور آل رسول سے محبت کی جائے، اور ان سے بغض و عداوت کا معاملہ نہ رکھا جائے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 116
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, علي بن زيد بن جدعان: ضعيف وأصل الحديث ((من كنت مولاه فعلي مولاه)) صحيح متواتر, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 1797 ، ومصباح الزجاجة : 48 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/281 ) ( صحیح ) » ( لیکن یہ سند ضعیف ہے ، اس میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں ، اور عدی بن ثابت ثقہ ہیں ، لیکن تشیع سے مطعون ہیں ، لیکن اصل حدیث شواہد کی وجہ صحیح ہے ، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 1750 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔`
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر آئے، آپ نے راستے میں ایک جگہ نزول فرمایا اور عرض کیا: «الصلاة جامعة» ، یعنی سب کو اکٹھا ہونے کا حکم دیا، پھر علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: کیا میں مومنوں کی جانوں کا مومنوں سے زیادہ حقدار نہیں ہوں؟ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں ہر مومن کا اس کی جان سے زیادہ حقدار نہیں ہوں؟ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 116]
اردو حاشہ: (1)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضلیت میں یہ کلمات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمائے تھے جب حجۃ الوداع سے واپس پر غدیرخم مقام پر پہنچے تھے۔
اس محبت و موالات کو بیان کرنے کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب یمن سے واپس آئے تو کچھ لوگ ان پر شاکی تھے۔ (2)
بعض لوگوں نے اس حدیث سے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلا فصل ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، حالانکہ دوستی کا خلافت سے کوئی تعلق نہیں۔

(3)
اس سے خوارج کی، جنہوں نے علی کی فضیلت کا انکار کیا اور ان غالی شیعہ کی مذمت ثابت ہوتی ہے، جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کی زندگی میں خدا کہا تھا، چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں سزائے موت دی۔
دیکھئے: (صحيح البخاري‘ استتابة المرتدين‘ حديث: 6922)

(4)
اس حدیث سے صرف یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی محبت رکھنا ضروری ہے، نہ کہ بغض و عناد۔

(5)
بعض کے نزدیک یہ روایت صحیح ہے۔ دیکھیے، (الصحيحة‘ حديث: 1750)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 116 سے ماخوذ ہے۔