سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
. بَابُ : مَنْ فَاتَتْهُ الأَرْبَعُ قَبْلَ الظُّهْرِ باب: جو ظہر سے پہلے کی چار رکعتیں نہ پڑھ سکا ہو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1158
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَزَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا فَاتَتْهُ الْأَرْبَعُ قَبْلَ الظُّهْرِ ، صَلَّاهَا بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ " ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : لَمْ يُحَدِّثْ بِهِ إِلَّا قَيْسٌ ، عَنْ شُعْبَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظہر سے پہلے چار رکعتیں فوت ہو جاتیں تو آپ ان کو ظہر کے بعد کی دونوں رکعتوں کے بعد پڑھ لیتے ۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صرف قیس بن ربیع نے شعبہ سے روایت کی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 426 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ظہر سے پہلے چار رکعتیں نہ پڑھ پاتے تو انہیں آپ اس کے بعد پڑھتے ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 426]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ظہر سے پہلے چار رکعتیں نہ پڑھ پاتے تو انہیں آپ اس کے بعد پڑھتے ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 426]
اردو حاشہ: 1؎: اس سے نبی اکرمﷺ کاان سنتوں کے اہتمام کاپتہ چلتاہے، اس لیے ہمیں بھی ان سنتوں کے ادائیگی کااہتمام کرنا چاہئے، اگرہم پہلے ادانہ کرسکیں توفرض صلاۃ کے بعدانہیں اداکرلیاکریں، لیکن یہ قضافرض نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 426 سے ماخوذ ہے۔