حدیث نمبر: 1157
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ مُعَتِّبٍ الضَّبِّيِّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ قَرْثَعٍ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِتَسْلِيمٍ " ، وَقَالَ : " إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ تُفْتَحُ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے سورج ڈھلنے کے بعد چار رکعت پڑھتے تھے اور بیچ میں سلام سے فصل نہیں کرتے تھے ، اور فرماتے : ” سورج ڈھلنے کے بعد آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1157
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون جملة الفصل , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (1270), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 418
تخریج حدیث « سنن ابی داود/الصلاة 296 ( 1270 ) ، ( تحفة الأشراف : 3485 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4175 ، 420 ) ( صحیح ) » ( حدیث میں وارد لفظ «لا يفصل بينهن بتسليم» منکر اور ضعیف ہے ، بقیہ حدیث صحیح ہے ، تراجع الألبانی : رقم : 125 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´ظہر سے پہلے کی چار رکعت سنت کا بیان۔`
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے سورج ڈھلنے کے بعد چار رکعت پڑھتے تھے اور بیچ میں سلام سے فصل نہیں کرتے تھے، اور فرماتے: سورج ڈھلنے کے بعد آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1157]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
یہ روایت بعض حضرات کے نزدیک صحیح ہے۔
لیکن اس میں الفاظ ’’ان میں سلام کے ساتھ فاصلہ نہیں کرتے تھے‘‘۔
صحیح نہیں ہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ ظہر کے فرضوں سے پہلے چار رکعت سنتیں بہ یک سلام اور دودو کرکے دونوں طرح پڑھنا جائز ہے۔
تاہم دودوکرکے پڑھنا زیادہ بہتر ہے
(2)
یہ وقت اعمال کی قبولیت کا ہے۔

(3)
ظہر کاوقت سورج ڈھلتے ہی شروع ہوجاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1157 سے ماخوذ ہے۔