سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
. بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَا يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ باب: فجر کی سنتوں میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1150
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ " ، وَكَانَ يَقُولُ : " نِعْمَ ، السُّورَتَانِ هُمَا يُقْرَأُ بِهِمَا فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے دو رکعت سنت پڑھتے تھے ، اور کہتے تھے کہ یہ دونوں سورتیں جو فجر کی دونوں رکعتوں میں پڑھی جاتی ہیں کیا ہی بہتر ہیں ایک : «قل هو الله أحد» دوسری «قل يا أيها الكافرون» ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´فجر کی سنتوں میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے دو رکعت سنت پڑھتے تھے، اور کہتے تھے کہ یہ دونوں سورتیں جو فجر کی دونوں رکعتوں میں پڑھی جاتی ہیں کیا ہی بہتر ہیں ایک: «قل هو الله أحد» دوسری «قل يا أيها الكافرون» ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1150]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے دو رکعت سنت پڑھتے تھے، اور کہتے تھے کہ یہ دونوں سورتیں جو فجر کی دونوں رکعتوں میں پڑھی جاتی ہیں کیا ہی بہتر ہیں ایک: «قل هو الله أحد» دوسری «قل يا أيها الكافرون» ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1150]
اردو حاشہ:
فائدہ: مذکوہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے: (الموسوعة الحدیثیة، مسند لإمام أحمد بن حنبل 149، 148/43 والصحیحة، رقم الحدیث: 646)
نیز دکتور بشار عواد اس حدیث کی تحقیق میں لکھتے ہیں۔
کہ یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
لیکن متناً صحیح ہے۔
کیونکہ اس سے قبل روایات میں یہ مسئلہ بیان ہوا ہے دیکھئے: (سنن ابن ماجة، بتحقیق الدکتور بشار عواد، حدیث: 1150)
فائدہ: مذکوہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے: (الموسوعة الحدیثیة، مسند لإمام أحمد بن حنبل 149، 148/43 والصحیحة، رقم الحدیث: 646)
نیز دکتور بشار عواد اس حدیث کی تحقیق میں لکھتے ہیں۔
کہ یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
لیکن متناً صحیح ہے۔
کیونکہ اس سے قبل روایات میں یہ مسئلہ بیان ہوا ہے دیکھئے: (سنن ابن ماجة، بتحقیق الدکتور بشار عواد، حدیث: 1150)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1150 سے ماخوذ ہے۔