حدیث نمبر: 1138
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ مِنَ النَّهَارِ لَا يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا الْعَبْدُ شَيْئًا إِلَّا أُعْطِيَ سُؤْلَهُ " ، قِيلَ : أَيُّ سَاعَةٍ ؟ ، قَالَ : " حِينَ تُقَامُ الصَّلَاةُ إِلَى الِانْصِرَافِ مِنْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جمعہ کے دن ایک ایسی ساعت ( گھڑی ) ہے کہ اس میں بندہ جو کچھ اللہ تعالیٰ سے مانگے اس کی دعا قبول ہو گی ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا : وہ کون سی ساعت ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز کے لیے اقامت کہی جانے سے لے کر اس سے فراغت تک “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1138
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (490), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 418
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الصلاة 237 ( 490 ) ، ( تحفة الأشراف : 10773 ) ( ضعیف جدا ) » ( اس حدیث کی سند میں کثیر بن عبد اللہ متروک ہے )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 490

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 490 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جمعہ کے دن کی وہ گھڑی جس میں دعا کی قبولیت کی امید کی جاتی ہے۔`
عمرو بن عوف مزنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ بندہ جو کچھ بھی اس میں مانگتا ہے اللہ اسے عطا کرتا ہے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کون سی گھڑی ہے؟ آپ نے فرمایا: نماز (جمعہ) کھڑی ہونے کے وقت سے لے کر اس سے پلٹنے یعنی نماز ختم ہونے تک ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجمعة/حدیث: 490]
اردو حاشہ:
1؎:
قبولیت دعاء کی اس گھڑی کے وقت کے بارے میں یہی ٹکڑا اس حدیث میں ضعیف ہے، نہ کہ مطلق حدیث ضعیف ہے۔

نوٹ:
(یہ سند معروف ترین ضعیف سندوں میں سے ہے، کثیر ضعیف راوی ہیں، اور ان کے والد عبداللہ عبداللہ بن عمرو بن عوف مزنی مقبول یعنی متابعت کے وقت ورنہ ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 490 سے ماخوذ ہے۔