سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْحِلَقِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلاَةِ وَالاِحْتِبَاءِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ باب: نماز جمعہ سے پہلے حلقہ بنا کر اور دوران خطبہ گوٹ مار کر بیٹھنے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 1134
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ " الِاحْتِبَاءِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ " ، يَعْنِي : وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن دوران خطبہ گوٹ مار کر بیٹھنے سے منع فرمایا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: «احتباء» : یعنی گوٹ مار کر بیٹھنے کی صورت یہ ہے کہ دونوں ٹانگوں کو دونوں ہاتھوں سے باندھ کر کھڑا رکھا جائے، اور سرین (چوتڑ) پر بیٹھا جائے، اس سے ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح بیٹھنے سے نیند آتی ہے، اور ہوا خارج ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نماز جمعہ سے پہلے حلقہ بنا کر اور دوران خطبہ گوٹ مار کر بیٹھنے کی ممانعت۔`
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن دوران خطبہ گوٹ مار کر بیٹھنے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1134]
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن دوران خطبہ گوٹ مار کر بیٹھنے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1134]
اردو حاشہ:
فائده:
حدیث میں مذکور بیٹھنے کی کیفیت احتباء کامفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ سرین کے بل بیٹھ کر گھٹنے کھڑے کرکے ان کےگرد سہارا لینے کےلئے دونوں ہاتھ باندھ لینا یا کمر اور گھٹنوں کے گرد کپڑا باندھنا، عرب لوگ اکثر اس طرح بیٹھا کرتے تھے۔
خطبے کے دوران میں اس طرح بیٹھنا درست نہیں کیونکہ اس سے نیند آ جاتی ہے۔
اور خطبے کا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔
علاوہ ازیں اس میں شرم گاہ کے ننگا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
فائده:
حدیث میں مذکور بیٹھنے کی کیفیت احتباء کامفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ سرین کے بل بیٹھ کر گھٹنے کھڑے کرکے ان کےگرد سہارا لینے کےلئے دونوں ہاتھ باندھ لینا یا کمر اور گھٹنوں کے گرد کپڑا باندھنا، عرب لوگ اکثر اس طرح بیٹھا کرتے تھے۔
خطبے کے دوران میں اس طرح بیٹھنا درست نہیں کیونکہ اس سے نیند آ جاتی ہے۔
اور خطبے کا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔
علاوہ ازیں اس میں شرم گاہ کے ننگا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1134 سے ماخوذ ہے۔