سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ قَبْلَ الْجُمُعَةِ باب: جمعہ سے پہلے کی سنتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1129
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ مُبَشِّرِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعُوفِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَرْكَعُ قَبْلَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعًا لَا يَفْصِلُ فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ سے پہلے چار رکعت پڑھتے تھے ، اور درمیان میں فصل نہیں کرتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جمعہ سے پہلے کی سنتوں کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ سے پہلے چار رکعت پڑھتے تھے، اور درمیان میں فصل نہیں کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1129]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ سے پہلے چار رکعت پڑھتے تھے، اور درمیان میں فصل نہیں کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1129]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت سنداً موضوع ہے۔
نبی کریمﷺ سے جمعے سے قبل رکعتوں کی کوئی تعین کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں، نہ قول سے اورنہ آپﷺکے عمل ہی سے، بلکہ نبی کریمﷺ جب منبر پررونق افروز ہوجاتے تو اذان شروع ہوجاتی۔
اور اذان کے بعد آپ کسی وقفہ کے بغیر خطبہ شروع فرمادیتے۔
اور یہ کھلے مشاہدہ کی بات تھی علامہ عراقی فرماتے ہیں کہ کسی صحیح حدیث میں نبی کریمﷺ سے یہ منقول نہیں۔
کہ آپ جمعہ سے پہلے کسی مقررہ رکعتوں پرمشتمل نماز پڑھتے تھے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ اور دیگرمحقیقین علمائے اہل حدیث کی تحقیق یہی ہے کہ جمعہ سے قبل مقررہ تعداد میں سنن ونوافل ثابت نہیں۔
البتہ جو شخص امام کے خطبہ شروع کرنے سے پہلے مسجد میں پہنچ جائے وہ بلاتعین جتنی سنتیں اور نوافل پڑھنا چاہے۔
پڑھ لے۔
اور جونہی امام خطبہ شروع کرے نوافل پڑھنا بند کردے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے۔ (فتاویٰ ابن تیمیه: 200، 188/24 وزادالمعاد: 440، 432/1)
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت سنداً موضوع ہے۔
نبی کریمﷺ سے جمعے سے قبل رکعتوں کی کوئی تعین کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں، نہ قول سے اورنہ آپﷺکے عمل ہی سے، بلکہ نبی کریمﷺ جب منبر پررونق افروز ہوجاتے تو اذان شروع ہوجاتی۔
اور اذان کے بعد آپ کسی وقفہ کے بغیر خطبہ شروع فرمادیتے۔
اور یہ کھلے مشاہدہ کی بات تھی علامہ عراقی فرماتے ہیں کہ کسی صحیح حدیث میں نبی کریمﷺ سے یہ منقول نہیں۔
کہ آپ جمعہ سے پہلے کسی مقررہ رکعتوں پرمشتمل نماز پڑھتے تھے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ اور دیگرمحقیقین علمائے اہل حدیث کی تحقیق یہی ہے کہ جمعہ سے قبل مقررہ تعداد میں سنن ونوافل ثابت نہیں۔
البتہ جو شخص امام کے خطبہ شروع کرنے سے پہلے مسجد میں پہنچ جائے وہ بلاتعین جتنی سنتیں اور نوافل پڑھنا چاہے۔
پڑھ لے۔
اور جونہی امام خطبہ شروع کرے نوافل پڑھنا بند کردے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے۔ (فتاویٰ ابن تیمیه: 200، 188/24 وزادالمعاد: 440، 432/1)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1129 سے ماخوذ ہے۔