حدیث نمبر: 1119
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، أَنْبَأَنَا ضَمْرَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَتَبَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَخْبِرْنَا بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مَعَ سُورَةِ الْجُمُعَةِ ، قَالَ : " كَانَ يَقْرَأُ فِيهَا : هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ` ضحاک ( احنف ) بن قیس نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کو لکھا کہ آپ ہمیں بتائیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن نماز جمعہ میں سورۃ الجمعہ کے ساتھ اور کون سی سورت پڑھتے تھے ؟ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم  «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1119
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الجمعة 16 ( 878 ) ، سنن ابی داود/الصلاة 242 ( 1123 ) ، سنن النسائی/الجمعة 39 ( 1424 ) ، ( تحفة الأشراف : 11634 ) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الجمعة 9 ( 19 ) ، مسند احمد ( 4/270 ، 277 ، سنن الدارمی/الصلاة 203 ( 1607 ، 1608 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 1424 | صحيح مسلم: 878

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نماز جمعہ پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔`
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ضحاک (احنف) بن قیس نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کو لکھا کہ آپ ہمیں بتائیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن نماز جمعہ میں سورۃ الجمعہ کے ساتھ اور کون سی سورت پڑھتے تھے؟ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1119]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
اس میں جمعے کی نماز میں سورۃ غاشیہ کی تلاوت کا ذکر ہے۔
جب کہ گزشتہ حدیث میں سورہ جمعہ اور سورہ منافقون کا ذکر ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ سورتوں کی تلاوت میں اختیار ہے۔

(2)
تحریری طور پر مسئلہ پوچھنا اور بتانا درست ہے۔

(3)
تحریر بھی اسی طرح قابل اعتماد ہے۔
جس طرح براہ راست سنی ہوئی حدیث بشرط یہ کہ یقین ہو یہ تحریر فلاں صاحب ہی کی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1119 سے ماخوذ ہے۔