سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ تَخَطِّي النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ باب: دوران جمعہ لوگوں کی گردنیں پھلانگنے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 1116
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ اتُّخِذَ جِسْرًا إِلَى جَهَنَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگے گا وہ جہنم کا پل بنایا جائے گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 513 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جمعہ کے دن (دوران خطبہ) لوگوں کی گردنیں پھاندنے کی کراہت۔`
معاذ بن انس جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جمعہ کے دن جس نے لوگوں کی گردنیں پھاندیں اس نے جہنم کی طرف لے جانے والا پل بنا لیا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجمعة/حدیث: 513]
معاذ بن انس جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جمعہ کے دن جس نے لوگوں کی گردنیں پھاندیں اس نے جہنم کی طرف لے جانے والا پل بنا لیا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجمعة/حدیث: 513]
اردو حاشہ:
1؎:
یہ ترجمہ ((اتّخَذَ)) معروف کے صیغے کا ہے مشہور اعراب مجہول کے صیغے ((اتُّخِذَ)) کے ساتھ ہے، اس صورت میں ترجمہ یوں ہو گا کہ جو جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھاندے گا وہ جہنم کا پل بنا دیا جائے گا جس پر چڑھ کر لوگ جہنم کو عبور کریں گے۔
نوٹ:
(سند میں رشدین بن سعد اور زبان بن فائد دونوں ضعیف راوی ہیں، لیکن شاہد کی وجہ سے حسن لغیرہ ہے، تراجع الالبانی 45، السراج المنیر 1512، والصحیحہ 3122)
1؎:
یہ ترجمہ ((اتّخَذَ)) معروف کے صیغے کا ہے مشہور اعراب مجہول کے صیغے ((اتُّخِذَ)) کے ساتھ ہے، اس صورت میں ترجمہ یوں ہو گا کہ جو جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھاندے گا وہ جہنم کا پل بنا دیا جائے گا جس پر چڑھ کر لوگ جہنم کو عبور کریں گے۔
نوٹ:
(سند میں رشدین بن سعد اور زبان بن فائد دونوں ضعیف راوی ہیں، لیکن شاہد کی وجہ سے حسن لغیرہ ہے، تراجع الالبانی 45، السراج المنیر 1512، والصحیحہ 3122)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 513 سے ماخوذ ہے۔