حدیث نمبر: 1105
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا ، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يَقْعُدُ قَعْدَةً ثُمَّ يَقُومُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے ، البتہ آپ ( دونوں خطبوں کے درمیان ) تھوڑی دیر بیٹھتے تھے ، پھر کھڑے ہو جاتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1105
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 2184 ) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الجمعة 13 ( 866 ) ، سنن ابی داود/الصلاة 229 ( 1101 ) ، سنن الترمذی/الصلاة 247 ( 507 ) ، سنن النسائی/الجمعة 35 ( 1419 ) ، سنن الدارمی/الصلاة 199 ( 1598 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1418 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´خطیب کے جمعہ کے دونوں خطبوں کے درمیان خاموشی سے بیٹھنے کا بیان۔`
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا، پھر آپ کچھ دیر چپ چاپ بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے اور دوسرا خطبہ دیتے، جو تم سے بیان کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے تو وہ غلط گو جھوٹا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1418]
1418۔ اردو حاشیہ: ➊ کلام نہ فرماتے یعنی تقریر نہ فرماتے تھے۔ اس میں آہستہ ذکر کی نفی نہیں۔ حدیث شریف میں ہے: «كانَ النبيُّ صَلّى اللَّهُ عليه وسلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ على كُلِّ أحْيانِهِ» [صحیح البخاري، الحیض، باب: 7، و صحیح مسلم، الحیض، حدیث: 373] نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر فرماتے تھے۔ لہٰذا اس دوران میں اگر کوئی دل میں ذکر کرے تو کوئی حرج نہیں۔
➋ دوسرا خطبہ الگ سے شروع کرنا چاہیے، یعنی حمد و ثنا، درود اور قرأت قرآن سے ابتدا کی جائے، پھر ذکر اور دعا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1418 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1419 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´دوسرے خطبے میں قرأت اور ذکر الٰہی کا بیان۔`
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر آپ بیچ میں بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے، اور کچھ آیتیں پڑھتے، اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ۱؎ اور آپ کا خطبہ درمیانی ہوتا تھا، اور نماز بھی درمیانی ہوتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1419]
1419۔ اردو حاشیہ: دونوں (نماز اور خطبے) کے درمیانے ہونے سے یہ لازم نہیں آتاکہ دونوں برابر ہوتے تھے بلکہ نماز، نمازوں کے لحاظ سے درمیانی ہوتی اور خطبہ، خطبوں کے لحاظ سے درمیانہ ہوتا کیونکہ یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1419 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1575 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´نماز امام کے کھڑے ہو کر خطبہ دینے کا بیان۔`
سماک کہتے ہیں کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر آپ کچھ دیر بیٹھتے تھے پھر کھڑے ہو جاتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1575]
1575۔ اردو حاشیہ: اس روایت میں بھی عید کا ذکر نہیں ہے مگر معلوم ہوتا ہے کہ مصنف رحمہ اللہ عید کے خطبے کو جمعے کے خطبے کی طرح سمجھتے ہیں، یعنی اس کے بھی دو خطبے ہوں گے۔ درمیان میں امام بیٹھے گا۔ جمہور اہل علم اسی بات کے قائل ہیں، البتہ اس بات میں اختلاف ہے کہ درمیان میں بیٹھنا خطبے کی طوالت اور امام کی سہولت اور آرام کے لیے ہے یا اختتام خطبہ کا قرب ظاہر کرنے کے لیے؟ دوسری وجہ ہو تو دوسرا خطبہ مختصر ہونا چاہیے اور یہی درست ہے۔ پہلی وجہ ہو تو دونوں خطبے برابر ہونے چاہییں مگر یہ معمول نہیں۔ بعض محققین علماء نے عید میں ایک خطبہ ہی درست سمجھا ہے کیونکہ کسی صحیح روایت میں صراحتاً عید کے دو خطبوں کا ذکر نہیں۔ سنن ابن ماجہ کی جس روایت میں دو خطبوں کا ذکر ہے، وہ روایت ابوبحر عبدالرحمن بن عثمان بن امیہ اور اس کے شیخ اسماعیل بن مسلم الخولانی کی وجہ سے ضعیف اور ناقابل حجت ہے کیونکہ یہ دونوں راوی ضعیف ہیں۔ واللہ اعلم۔ (سنن ابن ماجہ، اقامۃ الصلوات، حدیث: 1289) بنابریں یہ کیفیت، یعنی درمیان میں بیٹھنا، صرف خطبۂ جمعہ میں ثابت ہے۔ راجح اور درست موقف یہی معلوم ہوتا ہے کہ عید میں ایک ہی خطبہ ہے۔ واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1575 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1583 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´خطبہ میں میانہ روی کا بیان۔`
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتا تھا، تو آپ کی نماز درمیانی ہوتی تھی، اور آپ کا خطبہ (بھی) درمیانہ (اوسط درجہ کا) ہوتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1583]
1583۔ اردو حاشیہ: نماز نہ بہت طویل ہوتی کہ لوگ اکتا جائیں اور نہ بہت مختصر کہ لوگ ساتھ نہ مل سکیں۔ یہ مطلب نہیں کہ نماز اور خطبہ برابر ہوتے تھے کیونکہ دونوں اپنی حقیقت اور ہیئت میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں، لہٰذا ان کے پیمانے الگ الگ ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1583 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1584 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´دونوں خطبوں میں بیٹھنے اور اس میں خاموش رہنے کا بیان۔`
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا، پھر آپ تھوڑی دیر کے لیے بیٹھتے اس میں بولتے نہیں، پھر کھڑے ہوتے، اور دوسرا خطبہ دیتے، تو جو شخص تمہیں یہ خبر دے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر خطبہ دیا تو اس کی تصدیق نہ کرنا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1584]
1584۔ اردو حاشیہ: ➊ دو خطبوں کے درمیان بیٹھے ہوئے خاموش رہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس دوران میں خطبہ روک دینا چاہیے۔ یہ مطلب نہیں کہ وہ ذکر اذکار بھی نہیں کر سکتا۔ حدیث میں کلام کی نفی ہے۔ عرف عام میں ذکر کو کلام نہیں کیا جاتا، لہٰذا ذکر جائز ہے۔
➋ خطبۂ جمعہ یا خطبۂ عید کھڑے ہو کر ہی دینا چاہیے الایہ کہ کوئی معقول عذر ہو، مثلاً: بیماری، معذوری وغیرہ۔ لیکن بلاوجہ بیٹھ کر خطبہ دینے کو معمول بنالینا خلاف سنت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1584 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1585 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´دوسرے خطبہ میں قرآن پڑھنے اور ذکر الٰہی کرنے کا بیان۔`
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، پھر بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے، اور بعض آیتیں پڑھتے اور اللہ کا ذکر کرتے، اور آپ کا خطبہ اور آپ کی نماز متوسط (درمیانی) ہوا کرتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1585]
1585۔ اردو حاشیہ: ’’اللہ کی باتیں ذکر فرماتے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ ’’اللہ کا ذکر فرماتے۔ (نیز دیکھیے، حدیث: 1583]
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1585 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 862 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو خطبے دیتے تھے، ان کے درمیان بیٹھتے تھے، قرآن پڑھتے اور لوگوں کو وعظ ونصیحت فرماتے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1995]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: خطبہ جمعہ کا اصل مقصد قرآن کے ذریعہ لوگوں کو تذکیر، یاددہانی ہے کہ انہیں ان کا مقصد زندگی یاد دلایا جائے گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 862 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 862 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
سماک حضرت جابر بن سمر ہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کھڑے ہو کر دیتے تھے، پھر بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، اس لیے جس نے تمہیں یہ بتایا ہے کہ آپﷺ بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے، اس نے جھوٹ بولا، اللہ کی قسم! میں نے آپﷺ کے ساتھ دوہزار سے زائد نمازیں پڑھی ہیں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1996]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: جمعہ کے لیے دو خطبے ہیں، جن کے درمیان بیٹھا جائے گا۔
اور خطبہ کھڑے ہو کر دینا سنت ہے اور بیٹھ کر خطبہ دینا خلاف ِسنت ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 862 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 866 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ میں نمازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتا تھا آپﷺ کی نماز بھی درمیانی تھی اور آپﷺ کا خطبہ بھی درمیانہ تھا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2004]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اسلام کا اصل کمال اور خوبی یہی ہے کہ اس میں اعتدال وتوسط اور درمیانہ روی ہے کسی جگہ بھی افراط وتفریط نہیں ہے۔
اس اصول اورضابطہ کے مطابق آپﷺ کی نماز اورخطبہ میں نہ بہت طول ہوتا اورنہ بہت اختصار بلکہ دونوں کی مقدار معتدل اور متوسط ہوتی تھی۔
اس لیے خطبہ میں اعتدال خطیب کی سوجھ بوجھ اورعقل ودانش کی علامت ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 866 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1101 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ دینے کا بیان۔`
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز درمیانی ہوتی تھی اور آپ کا خطبہ بھی درمیانی ہوتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی چند آیتیں پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1101]
1101۔ اردو حاشیہ:
➊ خطبہ جمعہ کو بہت زیادہ طویل کر دینا اور اس کے بالمقابل نماز کو مختصر رکھنا خلاف سنت ہے۔
➋ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خطبہ جمعہ صرف عربی زبان میں دینا ضروری نہیں بلکہ اس سے اصل مقصد تو یہ ہے کہ لوگوں کی اصلاح ہو اس لئے خطبہ اس زبان میں ہونا چاہیے جو لوگوں کی سمجھ میں آ سکے۔ اور وہ خطبہ سن کر اس سے نصیحت حاصل کر سکیں۔ اور ان کی زندگی میں انقلاب آئے۔
➌ اگر یہ پابندی لگا دی جائے کہ خطبہ جمعہ صرف عربی زبان میں ہو اور بس، تو عربی نہ جاننے والوں کی سمجھ میں اس سے کیا آئے گا؟ اور کیسے ان کی اصلاح ہو گی؟ اس طرح تو وعظ و نصیحت کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1101 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1093 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کھڑے ہو کر خطبہ دینے کا بیان۔`
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جمعہ کے دن) کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر (تھوڑی دیر) بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، لہٰذا جو تم سے یہ بیان کرے کہ آپ بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے تو وہ غلط گو ہے، پھر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کے ساتھ دو ہزار سے زیادہ نمازیں پڑھ چکا ہوں ۱؎۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1093]
1093۔ اردو حاشیہ:
بغیر عذر شرعی کے بیٹھ کے خطبہ دینا جائز نہیں ہے، جو لوگ مسنون خطبوں سے پہلے منبر پر بیٹھ کر بیان یا تقریر کرتے ہیں انہیں اپنے اس خلاف سنت عمل پر غور کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1093 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1106 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جمعہ کے خطبہ کا بیان۔`
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے پھر بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہوتے اور قرآن کریم کی چند آیات تلاوت فرماتے اور اللہ کا ذکر کرتے، آپ کا خطبہ اور نماز دونوں ہی درمیانی ہوتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1106]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
خطبے میں قرآن مجید کی آیات پڑھ کر ان کی روشنی میں مسائل بیان کرنے چاہیں۔

(2)
خطبہ بہت طویل ہو نہ بہت مختصر بلکہ درمیانہ انداز اختیار کرنا چاہیے۔

(3)
نماز بہت مختصر نہیں ہونی چاہیے۔
بعض خطباء انتہائی مختصر سورتوں کی تلاوت کرتے ہیں۔
یا لمبی سورت کی تین چار آیتیں پڑھنے پر اکتفا کرتے ہیں۔
یہ طریقہ خلاف سنت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1106 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 374 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´نماز جمعہ کا بیان`
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن حمید کی چند آیات خطبہ جمعہ میں تلاوت فرما کر لوگوں کو نصیحت فرماتے تھے۔ (ابوداؤد) اس کی اصل مسلم میں ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 374»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الصلاة، باب الرجل يخطب علي قوس، حديث:1101، وأصله في مسلم، الجمعة، حديث:872.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خطبۂجمعہ میں قرآن مجید کی آیات پڑھنا مسنون ہیں۔
خطیب کو ان آیات کے ذریعے سے دنیا سے بے رغبتی‘ آخرت کی ترغیب اور اخلاق و کردار کی درستی کی طرف توجہ دلانی چاہیے۔
جتنی اصلاح آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ سے ہو سکتی ہے اور کسی ذریعے سے نہیں ہو سکتی۔
اس سلسلے میں موضوع احادیث اور من گھڑت قصے کہانیوں سے اجتناب کرنا ازحد ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 374 سے ماخوذ ہے۔