سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي وَقْتِ الْجُمُعَةِ باب: جمعہ کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1101
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ مُؤَذِّنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ كَانَ : " يُؤَذِّنُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ الْفَيْءُ مِثْلَ الشِّرَاكِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مؤذن رسول سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جمعہ کی اذان اس وقت دیتے تھے جب سایہ جوتا کے تسمے کے برابر ہو جاتا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جمعہ کے وقت کا بیان۔`
مؤذن رسول سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جمعہ کی اذان اس وقت دیتے تھے جب سایہ جوتا کے تسمے کے برابر ہو جاتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1101]
مؤذن رسول سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جمعہ کی اذان اس وقت دیتے تھے جب سایہ جوتا کے تسمے کے برابر ہو جاتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1101]
اردو حاشہ:
فائده:
قیلولہ دوپہر کے وقت آرام کرنے کو کہتے ہیں۔
جو عام ایّام میں ظہر سے پہلے کیا جاتا ہے۔
صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین جمعے کے دن جمعے کی تیاری میں مصروفیت کی وجہ سے نماز جمعہ کے بعد قیلولہ کرتے تھے۔
فائده:
قیلولہ دوپہر کے وقت آرام کرنے کو کہتے ہیں۔
جو عام ایّام میں ظہر سے پہلے کیا جاتا ہے۔
صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین جمعے کے دن جمعے کی تیاری میں مصروفیت کی وجہ سے نماز جمعہ کے بعد قیلولہ کرتے تھے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1101 سے ماخوذ ہے۔