حدیث نمبر: 1097
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، وَحَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَدِيعَةَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَأَحْسَنَ غُسْلَهُ ، وَتَطَهَّرَ فَأَحْسَنَ طُهُورَهُ ، وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ ، وَمَسَّ مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِنْ طِيبِ أَهْلِهِ ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ وَلَمْ يَلْغُ ، وَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَ اثْنَيْنِ ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے جمعہ کے دن اچھی طرح غسل کیا ، اچھی طرح وضو کیا ، سب سے اچھا کپڑا پہنا ، اور اس کے گھر والوں کو اللہ نے جو خوشبو میسر کی اسے لگایا ، پھر جمعہ کے لیے آیا اور کوئی لغو اور بیکار کام نہیں کیا ، اور دو مل کر بیٹھنے والوں کو الگ الگ کر کے بیچ میں نہیں گھسا ۱؎ تو اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے “ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے نہیں گیا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1097
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 11959 ، ومصباح الزجاجة : 389 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/177 ، 180 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جمعہ کے دن زیب و زینت کا بیان۔`
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے جمعہ کے دن اچھی طرح غسل کیا، اچھی طرح وضو کیا، سب سے اچھا کپڑا پہنا، اور اس کے گھر والوں کو اللہ نے جو خوشبو میسر کی اسے لگایا، پھر جمعہ کے لیے آیا اور کوئی لغو اور بیکار کام نہیں کیا، اور دو مل کر بیٹھنے والوں کو الگ الگ کر کے بیچ میں نہیں گھسا ۱؎ تو اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1097]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
وضو اور غسل توجہ سے اچھی طرح کرنا جمعے کی اہمیت کا اعتراف ہے۔

(2)
جمعے کے لئے خوشبو لگا کر آنا چاہیے۔
اگر مرد کے پاس خوشبو نہ ہو تو بیو ی کی خوشبو استعمال کرسکتا ہے۔

(3)
مرد اور عورت کے استعمال کی خوشبو میں فرق ہے۔
مرد کی خوشبو تیز مہک والی اور عورت کی خوشبو ہلکی مہک والی ہونی چاہیے۔
دیکھئے: (سنن نسائي، الزینة، باب الفصل بین طیب الرجال وطیب النساء، حدیث: 5120)
عورت تیز مہک والی خوشبواستعمال نہیں کرسکتی۔
مرد ضرورت پڑنے پر ہلکی مہک والی خوشبو استعمال کرسکتا ہے۔

(4)
بعد میں آکر اگلی صف میں جگہ بنانے کی کوشش کرنا اور پہلے سے آئے ہوئے نمازیوں کو پریشان کرنا درست نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1097 سے ماخوذ ہے۔