سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ باب: جمعہ کے دن غسل نہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1091
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ يُجْزِئُ عَنْهُ الْفَرِيضَةُ ، وَمَنِ اغْتَسَلَ فَالْغُسْلُ أَفْضَلُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے جمعہ کے دن وضو کیا تو یہ بڑی اچھی بات ہے ، اس سے فریضہ ادا ہو جائے گا ، اور جس نے غسل کیا تو غسل زیادہ بہتر ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: «فبها» کا مطلب ہے «فباالرخصة أخذ» یعنی اس نے رخصت کو اختیار کیا ہے اور نعمت کا مطلب «هي الرخصة» یعنی یہ رخصت خوب ہے، اس حدیث سے جمعہ کے غسل کے واجب نہ ہونے پر استدلال کیا گیا ہے کیونکہ اس میں ایک تو وضو پر اکتفا کرنے کی رخصت دی گئی ہے، اور دوسرے غسل کو افضل بتایا گیا ہے جس سے غسل نہ کر نے کی اجازت نکلتی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جمعہ کے دن غسل نہ کرنے کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے جمعہ کے دن وضو کیا تو یہ بڑی اچھی بات ہے، اس سے فریضہ ادا ہو جائے گا، اور جس نے غسل کیا تو غسل زیادہ بہتر ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1091]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے جمعہ کے دن وضو کیا تو یہ بڑی اچھی بات ہے، اس سے فریضہ ادا ہو جائے گا، اور جس نے غسل کیا تو غسل زیادہ بہتر ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1091]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
اور مذید لکھا ہے کہ مذکورہ روایت سے ابوداؤد کی روایت کفایت کرتی ہے۔
غالباً اسی وجہ سے دوسرے محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
لہٰذا یہ روایت محققین کے نزدیک قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
(2)
غسل کرنا جمعے کی صحت کےلئے شرط نہیں تاہم مستحب (پسندیدہ)
امر ہے۔
(3)
اگر کسی مصروفیت کی وجہ سے غسل نہ کرسکیں۔
اور جمعے کا وقت ہوجائے تو وضو کرکے جمعہ کےلئے چلے جانا چاہیے۔
کیونکہ خطبہ سننے کی اہمیت غسل سے زیادہ ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
اور مذید لکھا ہے کہ مذکورہ روایت سے ابوداؤد کی روایت کفایت کرتی ہے۔
غالباً اسی وجہ سے دوسرے محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
لہٰذا یہ روایت محققین کے نزدیک قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
(2)
غسل کرنا جمعے کی صحت کےلئے شرط نہیں تاہم مستحب (پسندیدہ)
امر ہے۔
(3)
اگر کسی مصروفیت کی وجہ سے غسل نہ کرسکیں۔
اور جمعے کا وقت ہوجائے تو وضو کرکے جمعہ کےلئے چلے جانا چاہیے۔
کیونکہ خطبہ سننے کی اہمیت غسل سے زیادہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1091 سے ماخوذ ہے۔