حدیث نمبر: 1083
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، وَعَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَضَلَّ اللَّهُ عَنِ الْجُمُعَةِ مَنْ كَانَ قَبْلَنَا ، كَانَ لِلْيَهُودِ يَوْمُ السَّبْتِ ، وَالْأَحَدُ لِلنَّصَارَى ، فَهُمْ لَنَا تَبَعٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، نَحْنُ الْآخِرُونَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا ، وَالْأَوَّلُونَ الْمَقْضِيُّ لَهُمْ قَبْلَ الْخَلَائِقِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلی امتوں کو جمعہ سے بھٹکا دیا ۱؎ ، یہود نے ہفتہ کا دن ، اور نصاریٰ نے اتوار کا دن ( عبادت کے لیے ) منتخب کیا ، اس طرح وہ قیامت تک ہمارے پیچھے رہیں گے ، ہم دنیا والوں سے ( آمد کے لحاظ سے ) آخر ہیں ، اور آخرت کے حساب و کتاب میں ساری مخلوقات سے اول ہیں “ ۲؎ ۔

وضاحت:
۱؎: جمعہ سے بھٹکانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جمعہ اور اس کے علاوہ دوسرے دنوں کے اختیار کی توفیق دی، لیکن انہوں نے اسے اختیار نہ کرکے دوسرا دن اختیار کیا۔ ۲؎: یہ امت محمدیہ پر اللہ تعالیٰ کی عنایت ہوئی کہ دنیا میں ان کو سب کے بعد رکھا، اور آخرت میں سب سے پہلے رکھے گا، دنیا میں بعد میں رکھنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ امت سابقہ امتوں پر گواہ ہے جیسے کہ قرآن میں وارد ہے، بہرحال جمعہ کی فضیلت یہود اور نصاریٰ کو نہیں ملی، انہوں نے اس دن کے پہچاننے میں غلطی کی، اور امت محمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے صاف کھول کر یہ دن بیان کر دیا، اور جمعہ کی تخصیص کی وجہ یہ ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش اسی دن کی، یعنی آدم علیہ السلام کو اسی دن پیدا کیا، پس ہر ایک انسان پر اس دن اپنے مالک کا شکر ادا کرنا فرض ہوا، اور قیامت بھی اسی دن آئے گی، گویا شروع اور خاتمہ دونوں اسی دن ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1083
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث « حدیث ربعي بن حراش عن حذیفة أخرجہ : صحیح مسلم/الجمعة 6 ( 856 ) ، ( تحفة الأشراف : 3311 ) ، وحدیث أبي حازم عن أبي ہریرة أخرجہ مثلہ ، ( تحفة الأشراف : 13397 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الجمعة 12 ( 896 ) ، سنن النسائی/الجمعة 1 ( 1369 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 1369 | صحيح مسلم: 856 | مسند الحميدي: 984

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جمعہ کی فرضیت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلی امتوں کو جمعہ سے بھٹکا دیا ۱؎، یہود نے ہفتہ کا دن، اور نصاریٰ نے اتوار کا دن (عبادت کے لیے) منتخب کیا، اس طرح وہ قیامت تک ہمارے پیچھے رہیں گے، ہم دنیا والوں سے (آمد کے لحاظ سے) آخر ہیں، اور آخرت کے حساب و کتاب میں ساری مخلوقات سے اول ہیں ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1083]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ہفتے کے سات دنوں میں جمعے کادن افضل ہے۔

(2)
امت محمدیہ دوسری امتوں سے افضل ہے۔
اس کی فضیلت کا ایک مظہر یہ بھی ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے امت محمدیہ کا حساب کتاب ہوگا۔
اس طرح اس امت کے نیک لوگ دوسری امتوں کے صالحین سے پہلے جنت میں جایئں گے۔

(3)
اس دن کی فضیلت کا تقاضا ہے۔
کہ اسے اہمیت دی جائے۔
خاص طور پر نماز جمعہ کے لئے پورے اہتمام سے تیار ی کرکے بروقت مسجد میں حاضری دی جائے۔

(4)
اس دن کی فضیلت کے چند مظاہر کاذکراگلے باب میں آرہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1083 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1369 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جمعہ کی فرضیت کا بیان۔`
ابوہریرہ اور حذیفہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے والوں کو جمعہ سے بھٹکا دیا، یہود کے لیے ہفتہ (سنیچر) کا دن مقرر ہوا، اور نصرانیوں کے لیے اتوار کا، پھر اللہ تعالیٰ ہمیں لایا تو اس نے ہمیں جمعہ کے دن سے نوازا، تو اب (پہلے) جمعہ ہے، پھر ہفتہ (سنیچر) پھر اتوار، اس طرح یہ لوگ قیامت تک ہمارے تابع ہوں گے، ہم دنیا میں بعد میں آئے ہیں مگر قیامت کے دن پہلے ہوں گے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1369]
1369۔ اردو حاشیہ: دور رکھا اللہ تعالیٰ نے انہیں زبردستی دور نہیں رکھا بلکہ انہیں اس فیصلے کی توفیق نہیں دی ……… اور توفیق دینا اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، اس پر فرض نہیں ………اس کو دور رکھنے سے بیان فرمایا، ورنہ انہوں نے اپنی مرضی سے جمعے کے خلاف اور ہفتہ یا اتوار کے حق میں فیصلہ کیا تھا۔ ہمیں صحیح فیصلے کی توفیق دینا اللہ تعالیٰ کا کرم ہے۔ والحمدللہ علی ذلك۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1369 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 984 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
984- سیدنا ابویرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایاہے: ہم (دنیا میں) آخر والے ہیں اور (قیامت کے دن) پہلے ہوں گے۔ وہ اس طرح کہ ان لوگوں کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی ہے اور ہمیں ان کے بعد کتاب دی گئی ہے اور یہ (یعنی جمعہ کا دن) وہ دن ہے، جس کے بارے میں ان لوگوں نے اختلاف کیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس دن کے بارے میں ہماری رہنمائی کی، تو اس دن کے حوالے سے لوگ ہمارے پیروکار ہیں۔ یہودیوں کا (مخصوص مذہبی دن) کل (یعنی ہفتہ) کا ہے۔ اور عیسائیوں کا مخصوص مذہبی دن پرسوں کا (یعنی اتوار ہے) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:984]
فائدہ:
اس حدیث میں امت مسلمہ کی فضیلت بیان کی گئی ہے، اور اس حدیث میں جمعہ کی فضیلت کا بیان ہے اور یہود و نصاریٰ کی سرکشی کا بھی بیان ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 984 سے ماخوذ ہے۔