سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابٌ في فَرْضِ الْجُمُعَةِ باب: جمعہ کی فرضیت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ بُكَيْرٍ أَبُو جَنَّابٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَدَوِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، تُوبُوا إِلَى اللَّهِ قَبْلَ أَنْ تَمُوتُوا ، وَبَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ الصَّالِحَةِ قَبْلَ أَنْ تُشْغَلُوا ، وَصِلُوا الَّذِي بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رَبِّكُمْ بِكَثْرَةِ ذِكْرِكُمْ لَهُ ، وَكَثْرَةِ الصَّدَقَةِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ ، تُرْزَقُوا وَتُنْصَرُوا وَتُجْبَرُوا ، وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْكُمُ الْجُمُعَةَ فِي مَقَامِي هَذَا ، فِي يَوْمِي هَذَا ، فِي شَهْرِي هَذَا ، مِنْ عَامِي هَذَا ، إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، فَمَنْ تَرَكَهَا فِي حَيَاتِي أَوْ بَعْدِي وَلَهُ إِمَامٌ عَادِلٌ أَوْ جَائِرٌ ، اسْتِخْفَافًا بِهَا أَوْ جُحُودًا لَهَا ، فَلَا جَمَعَ اللَّهُ لَهُ شَمْلَهُ ، وَلَا بَارَكَ لَهُ فِي أَمْرِهِ ، أَلَا وَلَا صَلَاةَ لَهُ ، وَلَا زَكَاةَ لَهُ ، وَلَا حَجَّ لَهُ ، وَلَا صَوْمَ لَهُ ، وَلَا بِرَّ لَهُ ، حَتَّى يَتُوبَ ، فَمَنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، أَلَا لَا تَؤُمَّنَّ امْرَأَةٌ رَجُلًا ، وَلَا يَؤُمَّن أَعْرَابِيٌّ مُهَاجِرًا ، وَلَا يَؤُمَّ فَاجِرٌ مُؤْمِنًا ، إِلَّا أَنْ يَقْهَرَهُ بِسُلْطَانٍ يَخَافُ سَيْفَهُ وَسَوْطَهُ " .
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا : ” لوگو ! مرنے سے پہلے اللہ کی جناب میں توبہ کرو ، اور مشغولیت سے پہلے نیک اعمال میں سبقت کرو ، جو رشتہ تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان ہے اسے جوڑو ، اس کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ کو خوب یاد کرو ، اور خفیہ و اعلانیہ طور پر زیادہ سے زیادہ صدقہ و خیرات کرو ، تمہیں تمہارے رب کی جانب سے رزق دیا جائے گا ، تمہاری مدد کی جائے گی اور تمہاری گرتی حالت سنبھال دی جائے گی ، جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر جمعہ اس مقام ، اس دن اور اس مہینہ میں فرض کیا ہے ، اور اس سال سے تاقیامت فرض ہے ، لہٰذا جس نے جمعہ کو میری زندگی میں یا میرے بعد حقیر و معمولی جان کر یا اس کا انکار کر کے چھوڑ دیا حالانکہ امام موجود ہو خواہ وہ عادل ہو یا ظالم ، تو اللہ تعالیٰ اس کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دے اور اس کے کام میں برکت نہ دے ، سن لو ! اس کی نماز ، زکاۃ ، حج ، روزہ اور کوئی بھی نیکی قبول نہ ہو گی ، یہاں تک کہ وہ توبہ کرے ، لہٰذا جس نے توبہ کی اللہ اس کی توبہ قبول فرمائے گا ، سن لو ! کوئی عورت کسی مرد کی ، کوئی اعرابی ( دیہاتی ) کسی مہاجر کی ، کوئی فاجر کسی مومن کی امامت نہ کرے ، ہاں جب وہ کسی ایسے حاکم سے مغلوب ہو جائے جس کی تلوار اور کوڑوں کا ڈر ہو “ ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابن ماجہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ” کوئی عورت کسی مرد کی امام نہ بنے اور نہ کوئی بدوی دیہاتی کسی مہاجر کی امامت کرائے اور نہ کوئی فاجر کسی مومن کا امام بنے۔ “ اس روایت کی سند «واه» ضعیف ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 328»
«أخرجه ابن ماجه، إقامة الصلوات، باب في فرض الجمعة، حديث:1081.* العدوي متروك، رماه وكيع بالوضع، والواليد لين الحديث، وعلي بن زيد ضعيف.»
تشریح: یہ روایت نہایت ہی کمزور سند سے منقول ہے‘ اس لیے اس سے مسائل کا استنباط کرنا درست نہیں۔