سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : إِتْمَامِ الصَّلاَةِ باب: نماز کو مکمل طور پر ادا کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، قَالَت : سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا تَوَضَّأَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ فِي الْإِنَاءِ سَمَّى اللَّهَ ، وَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ يَقُومُ فَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ، فَيُكَبِّرُ ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حِذَاءَ مَنْكِبَيْهِ ، ثُمَّ يَرْكَعُ ، فَيَضَعُ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَيُجَافِي بِعَضُدَيْهِ ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ ، فَيُقِيمُ صُلْبَهُ ، وَيَقُومُ قِيَامًا هُوَ أَطْوَلُ مِنْ قِيَامِكُمْ قَلِيلًا ، ثُمَّ يَسْجُدُ ، فَيَضَعُ يَدَيْهِ تُجَاهَ الْقِبْلَةِ ، وَيُجَافِي بِعَضُدَيْهِ مَا اسْتَطَاعَ فِيمَا رَأَيْتُ ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ ، فَيَجْلِسُ عَلَى قَدَمِهِ الْيُسْرَى ، وَيَنْصِبُ الْيُمْنَى ، وَيَكْرَهُ أَنْ يَسْقُطَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ " .
´عمرہ کہتی ہیں کہ` میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسی تھی ؟ انہوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو شروع کرتے تو اپنا ہاتھ برتن میں ڈال کر «بسم الله» کہتے اور وضو مکمل کرتے ، پھر قبلہ رخ کھڑے ہوتے اور «الله أكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے ، پھر رکوع کرتے ، اور اپنے دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں پہ رکھتے اور بازوؤں کو پسلیوں سے جدا رکھتے ، پھر رکوع سے سر اٹھاتے اور پیٹھ سیدھی کرتے ، اور تمہارے قیام سے کچھ لمبا قیام کرتے ، پھر سجدہ کرتے اور اپنے دونوں ہاتھ قبلہ رخ رکھتے ، اور میرے مشاہدہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں تک ہو سکتا اپنے بازوؤں کو ( اپنی بغلوں سے ) جدا رکھتے ، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے اور بائیں قدم پہ بیٹھ جاتے ، اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے ، ( اور قعدہ اولیٰ میں ) بائیں طرف مائل ہونے کو ناپسند فرماتے ۔