حدیث نمبر: 106
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا ، يَقُول : " خَيْرُ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَبُو بَكْرٍ ، وَخَيْرُ النَّاسِ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ ، عُمَرُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن سلمہ کہتے ہیں کہ` میں نے علی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا : ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر ابوبکر ہیں ، اور ان کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر عمر ہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 106
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10189 ، ومصباح الزجاجة : 41 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/فضائل الصحابة 5 ( 3671 ) ، سنن ابی داود/السنة 8 ( 4629 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔`
عبداللہ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر ابوبکر ہیں، اور ان کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر عمر ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 106]
اردو حاشہ:
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی افضیلت کے قائل تھے، اس لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف جو اس قسم کے اقوال منسوب ہیں، جن میں اس کے برعکس بات کہی گئی ہے، وہ من گھڑت ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 106 سے ماخوذ ہے۔