سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : عَدَدِ سُجُودِ الْقُرْآنِ باب: قرآن کریم میں سجود تلاوت کی تعداد۔
حدیث نمبر: 1057
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سَعِيدٍ الْعُتَقِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُنَيْنٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ كِلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقْرَأَهُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَجْدَةً فِي الْقُرْآنِ : مِنْهَا ثَلَاثٌ فِي الْمُفَصَّلِ ، وَفِي الْحَجِّ سَجْدَتَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قرآن میں پندرہ سجدے پڑھائے ، ان میں سے تین سجدے مفصل میں اور دو سجدے سورۃ الحج میں ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´قرآن کریم میں سجود تلاوت کی تعداد۔`
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قرآن میں پندرہ سجدے پڑھائے، ان میں سے تین سجدے مفصل میں اور دو سجدے سورۃ الحج میں ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1057]
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قرآن میں پندرہ سجدے پڑھائے، ان میں سے تین سجدے مفصل میں اور دو سجدے سورۃ الحج میں ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1057]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
تاہم صحیح احادیث سے قرآن مجید میں 15 سجدوں کا ذکر ملتا ہے۔
جبکہ احناف اور شوافع 14 سجدوں کے قائل ہیں۔
احناف سورہ حج میں ایک سجدے کے قائل ہیں۔
جبکہ سورہ حج میں دو سجدوں کا ثبوت احادیث سے ملتا ہے۔
یہ احادیث اگرچہ سنداً ضعیف ہیں۔
لیکن حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ان کے کچھ شواہد بھی موجود ہیں۔
جو ایک دوسرے کی تقویت کا باعث ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر، سورة الأنبیاء، آیت: 18)
نیز محقق عصر شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔ (تعلیقات المشکاۃ، الصلاۃ، حدیث: 1030)
نیز ابوداؤد کی حدیث کو جس میں سورہ حج کے دو سجدوں کا ذکر ہے۔
ہمارے محقق نے حسن قرار دیا ہے۔
ملاحظہ ہو: (سنن ابی داؤد، حدیث: 1402)
کی تحقیق وتخریج۔
شوافع سورۃ ص کے سجدے کے قائل نہیں ہیں۔
جبکہ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سورہ ص کا سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (صحیح البخاري، سجود القرآن، حدیث: 1069)
الحاصل احادیث سے قرآن پاک میں 15 سجدوں کا ذکر ملتا ہے۔
لہٰذا قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے 15 مقامات پر سجدہ کرنا مستحب ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
تاہم صحیح احادیث سے قرآن مجید میں 15 سجدوں کا ذکر ملتا ہے۔
جبکہ احناف اور شوافع 14 سجدوں کے قائل ہیں۔
احناف سورہ حج میں ایک سجدے کے قائل ہیں۔
جبکہ سورہ حج میں دو سجدوں کا ثبوت احادیث سے ملتا ہے۔
یہ احادیث اگرچہ سنداً ضعیف ہیں۔
لیکن حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ان کے کچھ شواہد بھی موجود ہیں۔
جو ایک دوسرے کی تقویت کا باعث ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر، سورة الأنبیاء، آیت: 18)
نیز محقق عصر شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔ (تعلیقات المشکاۃ، الصلاۃ، حدیث: 1030)
نیز ابوداؤد کی حدیث کو جس میں سورہ حج کے دو سجدوں کا ذکر ہے۔
ہمارے محقق نے حسن قرار دیا ہے۔
ملاحظہ ہو: (سنن ابی داؤد، حدیث: 1402)
کی تحقیق وتخریج۔
شوافع سورۃ ص کے سجدے کے قائل نہیں ہیں۔
جبکہ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سورہ ص کا سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (صحیح البخاري، سجود القرآن، حدیث: 1069)
الحاصل احادیث سے قرآن پاک میں 15 سجدوں کا ذکر ملتا ہے۔
لہٰذا قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے 15 مقامات پر سجدہ کرنا مستحب ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1057 سے ماخوذ ہے۔