سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : عَدَدِ سُجُودِ الْقُرْآنِ باب: قرآن کریم میں سجود تلاوت کی تعداد۔
حدیث نمبر: 1056
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ فَائِدٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ الْمَهْدِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُيَيْنَهَ بْنِ خَاطِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : " سَجَدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةً لَيْسَ فِيهَا مِنَ الْمُفَصَّلِ شَيْءٌ : الْأَعْرَافُ ، وَالرَّعْدُ ، وَالنَّحْلُ ، وَبَنِي إِسْرَائِيلَ ، وَمَرْيَمُ ، وَالْحَجُّ ، وَسَجْدَةُ الْفُرْقَانِ ، وَسُلَيْمَانُ سُورَةِ النَّمْلِ ، وَالسَّجْدَةُ ، وَفِي ص ، وَسَجْدَةُ الْحَوَامِيمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیارہ سجدے کئے ، جن میں سے کوئی مفصل میں نہ تھا ( اور وہ گیارہ سجدے ان سورتوں میں تھے ) : اعراف ، رعد ، نحل ، بنی اسرائیل ، مریم ، حج ، فرقان ، نمل ، سورۃ السجدۃ ، سورۃ ص اور سورۃ حم سجدہ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´قرآن کریم میں سجود تلاوت کی تعداد۔`
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیارہ سجدے کئے، جن میں سے کوئی مفصل میں نہ تھا (اور وہ گیارہ سجدے ان سورتوں میں تھے): اعراف، رعد، نحل، بنی اسرائیل، مریم، حج، فرقان، نمل، سورۃ السجدۃ، سورۃ ص اور سورۃ حم سجدہ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1056]
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیارہ سجدے کئے، جن میں سے کوئی مفصل میں نہ تھا (اور وہ گیارہ سجدے ان سورتوں میں تھے): اعراف، رعد، نحل، بنی اسرائیل، مریم، حج، فرقان، نمل، سورۃ السجدۃ، سورۃ ص اور سورۃ حم سجدہ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1056]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
سنن ابن ماجہ کے اکثر نسخوں میں سورہ نمل کی بجائے سلیمان سورۃ نحل کے الفاظ ہیں۔
رایوں نے حضرت سلیمان کا ذکر غالباً اس لئے کیا کہ اسےسورہ نمل (میم سے)
پڑھا جائے۔
کیونکہ اسی صورت میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر ہے۔
غلطی سے سورہ نحل (حاء سے)
نہ پڑھا جائے۔
اس کے باوجود مطبوعہ نسخوں میں ح سے نحل ہی لکھا گیا حالانکہ سورہ نحل کا ذکر اس حدیث میں سورہ رعد کے بعد موجود ہے۔
2۔
یہ روایت ضعیف ہے۔
کیونکہ صحیح احادیث سے پندرہ سجدے ثابت ہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
سنن ابن ماجہ کے اکثر نسخوں میں سورہ نمل کی بجائے سلیمان سورۃ نحل کے الفاظ ہیں۔
رایوں نے حضرت سلیمان کا ذکر غالباً اس لئے کیا کہ اسےسورہ نمل (میم سے)
پڑھا جائے۔
کیونکہ اسی صورت میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر ہے۔
غلطی سے سورہ نحل (حاء سے)
نہ پڑھا جائے۔
اس کے باوجود مطبوعہ نسخوں میں ح سے نحل ہی لکھا گیا حالانکہ سورہ نحل کا ذکر اس حدیث میں سورہ رعد کے بعد موجود ہے۔
2۔
یہ روایت ضعیف ہے۔
کیونکہ صحیح احادیث سے پندرہ سجدے ثابت ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1056 سے ماخوذ ہے۔