حدیث نمبر: 1045
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ ، أَوْ لَا تَرْجِعُ أَبْصَارُهُمْ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں کو ( نماز کی حالت میں ) آسمان کی طرف اپنی نگاہیں اٹھانے سے باز آ جانا چاہیئے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی نگاہیں ( صحیح سالم ) نہ لوٹیں “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی نماز کے اندر اس کام سے باز آ جائیں، اور بعضوں نے کہا کہ جب دعا کرتا ہو تو نماز سے باہر بھی نگاہ اٹھانی مکروہ ہے، اور اکثر لوگوں نے نماز سے باہر نگاہ اٹھانے کو جائز کہا ہے، اس بناء پر کہ دعا کا قبلہ آسمان ہے جیسے نماز کا قبلہ کعبہ ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1045
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الصلاة 23 ( 428 )، ( تحفة الأشراف: 2130 )، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 167 ( 912 )، مسند احمد ( 5/90، 93، 101، 108، سنن الدارمی/الصلاة 67 ( 1339 ) ( صحیح )»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 428 | سنن ابي داود: 912 | بلوغ المرام: 193

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 912 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´نماز میں (ادھر ادھر) دیکھنے کا بیان۔`
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ نماز میں اپنے ہاتھ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں انہیں چاہیئے کہ اس سے باز آ جائیں ورنہ (ہو سکتا ہے کہ) ان کی نگاہیں ان کی طرف واپس نہ لوٹیں یعنی بینائی جاتی رہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 912]
912۔ اردو حاشیہ:
نماز کے دوران میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھانا جائز ہے، جیسے کہ قنوت میں اٹھائے جاتے ہیں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی اللہ کی حمد کے لئے اٹھائے تھے۔ دیکھئے: (حدیث۔ 940۔ 941) لیکن نظریں آسمان کی طرف اٹھانا صحیح نہیں، اس حدیث میں انکار نظریں اٹھانے پر ہے، نہ کہ ہاتھ اٹھانے پر۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 912 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 193 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´نماز كے دوران ميں آسمان کی جانب نظریں اٹھانا حرام ہے`
«. . . وعن جابر بن سمرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: ‏‏‏‏لينتهين اقوام يرفعون ابصارهم إلى السماء في الصلاة،‏‏‏‏ او لا ترجع إليهم . . .»
. . . سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان قوم نماز میں اپنی نظریں آسمان کی جانب اٹھانے سے باز آ جائے ورنہ ایسا نہ ہو کہ پھر ان کی نظریں واپس ہی نہ آئیں . . . [بلوغ المرام/كتاب الصلاة: 193]
لغوی تشریح:
«لِيَنْتَهِيَنَّ» انتھاء سے ماخوذ ہے اور اس میں لام، قسم محذوف کے جواب میں آیا ہے۔ آخر میں نون مشددہ تاکید کے لیے ہے اور یہ خبر امر کے معنی میں ہے، یعنی رک جائیں، باز آجائیں۔
«أَوْ لَا تَرْجِعُ» یعنی ان کی نظریں واپس نہیں لوٹیں گی۔
«إِلَيْهِمْ» ان کی طرف، یعنی وہ نابینے ہو کر رہ جائیں گے۔ دونوں میں سے ایک کا وقوع لازمی ہے یا تو لوگ نماز میں اپنی نظریں اٹھانے سے باز آ جائیں گے یا پھر بطور سزا اللہ تعالیٰ ان کی آنکھیں چھین لے گا۔
«وَلَا وَهُوَ يُدَافِعُهُ الْأَخْبَثَانِ» یعنی اس وقت بھی نماز نہیں ہوتی جب نمازی پیشاب یا پاخانہ روک کر نماز پڑھے۔ «وَهُوَ» کی واؤ حالیہ ہے۔ اور دو خبیث چیزوں سے مراد پیشاب اور پاخانہ ہے۔ مدافعت باب مفاعلہ ہے جس میں مشارکت کا خاصا ہے۔ اس کے معنی ہیں: ایک دوسرے کو دھکیلنا۔ گویا نمازی ان کو دھکیلتا اور روکتا ہے اور وہ نمازی کو فراغت کی طرف کھینچتے اور دھکیلتے ہیں۔
فوائد و مسائل:
➊ نماز كے دوران ميں آسمان کی جانب نظریں اٹھانا حرام ہے۔ امام ابن حزم رحمہ اللہ نے تو یہاں تک کہا ہے کہ ایسا کرنے والے کی نماز ہی نہیں رہتی۔ [المحلي لا بن حزم: 74، مسئله 382] امام نووی رحمہ اللہ نے شرح صحیح مسلم میں کہا ہے کہ اس میں سخت نہی اور وعید ہے۔ انہوں نے اس نہی کے تحریمی ہونے پر علماء کا اجماع نقل کیا ہے۔ [صحيح مسلم بشرح النووي، 199/4، 200، مطبوعة مؤسسة قرطبة]
➋ اسی طرح نماز شروع کرنے سے پہلے قضائے حاجت کی اگر شدید حاجت ہو تو اسے روک کر نماز ادا نہیں کرنی چاہئیے۔ ایسی نماز نہیں ہو گی۔ بول و براز کی جب شدید حاجت ہو تو اس وقت یہ دونوں، نمازی کو ان سے فراغت کی جانب بزور کھینچ لے جانے کی کوشش کرتے ہیں جس سے نماز میں یکسوئی نہیں رہتی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 193 سے ماخوذ ہے۔