حدیث نمبر: 104
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّلْحِيُّ ، أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ عَطَاءٍ الْمَدِينِيُّ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَّلُ مَنْ يُصَافِحُهُ الْحَقُّ عُمَرُ ، وَأَوَّلُ مَنْ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ ، وَأَوَّلُ مَنْ يَأْخُذُ بِيَدِهِ ، فَيُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حق تعالیٰ سب سے پہلے قیامت کے دن عمر سے مصافحہ کریں گے ، اور سب سے پہلے انہیں سے سلام کریں گے ، اور سب سے پہلے ان کا ہاتھ پکڑ کر جنت میں داخل کریں گے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 104
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: منكر جدا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, داود بن عطاء: ضعيف (تقريب: 1801) والسند ضعفه البوصيري, وقال في داود بن عطاء: ’’ قد اتفقوا علي ضعفه ‘‘, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 24 ، ومصباح الزجاجة : 40 ) ( منکر جدًا ) » ( داود بن عطاء المدینی ضعیف ہیں ، اور منکر الحدیث ہیں اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے )