حدیث نمبر: 1037
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْسٍ ، قَالَ : كَانَ جَدِّي أَوْسٌ أَحْيَانًا يُصَلِّي ، فَيُشِيرُ إِلَيَّ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ ، فَأُعْطِيهِ نَعْلَيْهِ وَيَقُولُ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابن ابی اوس کہتے ہیں کہ` میرے دادا اوس رضی اللہ عنہ کبھی نماز پڑھتے ہوئے مجھے اشارہ کرتے تو میں انہیں ان کے جوتے دے دیتا ( وہ پہن لیتے اور نماز پڑھتے ) اور ( پھر نماز کے بعد ) کہتے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے جوتے پہن کر نماز پڑھتے دیکھا ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس باب میں بہت سی حدیثیں وارد ہیں، بلکہ علماء نے خاص اس مسئلہ میں مستقل رسالے لکھے ہیں، حاصل یہ ہے کہ جوتے پہن کر نماز پڑھنا مستحب اور مسنون ہے، اور جو کہتا ہے کہ جوتے اتار کر پڑھنا ادب ہے اس کا قول غلط ہے اس لئے کہ نبی اکرم ﷺ کا کوئی فعل خلاف ادب نہیں ہو سکتا، دوسری حدیث میں ہے کہ جوتے پہن کر نماز پڑھو اور یہود کی مخالفت کرو، وہ جوتے پہن کر نماز نہیں پڑھتے، البتہ یہ ضروری ہے کہ جوتے پاک و صاف ہوں، مگر ہماری شریعت میں جوتوں کی پاکی یہ رکھی گئی ہے کہ ان کو زمین سے رگڑ دے، اور جوتوں کا دھونا کسی حدیث سے ثابت نہیں، اور نہ سلف صالحین ہی سے منقول ہے، لیکن یہ واضح رہے کہ تمدن اور شہریت کے اس زمانہ میں جب کہ مساجد میں فرش اور قالین بچھانے کا رواج ہے تو ان میں جوتا پہن کر جانا نامناسب ہے خاص کر برصغیر کے شہروں اور دیہاتوں کی مساجد میں کہ یہاں کی مٹی اور کیچڑ نیز راستہ کی گندگی اور کوڑا کرکٹ انسان کے جوتے اور کپڑوں میں لگ کر اس کو گندا کر دیتے ہیں، رہ گئی بات عرب دنیا کی تو وہاں پر عام زمین ریتیلی اور پہاڑی ہے اور بالعموم جوتے یا بدن میں لگنے کے بعد بھی خود سے یا رگڑنے سے صاف ہو جاتی ہے، بہرحال صفائی اور ستھرائی کا خیال کرنا بہت اہم مسئلہ ہے، اور صاف جوتے پہن کر مناسب مقام میں نماز پڑھنے کا جواز ایک الگ مسئلہ ہے، چنانچہ عرب ملکوں میں آج بھی لوگ جوتے پہن کر نماز ادا کرتے ہیں، لیکن مساجد میں جوتے پہن کر نماز نہیں ادا کرتے بلکہ اس کے لئے اندر اور باہر جگہیں ہر مسجد میں موجود ہوتی ہیں، جہاں انہیں رکھ کر آدمی مسجد میں داخل ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1037
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ بہ ابن ماجہ، ( تحفة الأشراف: 1742، ومصباح الزجاجة: 372 )، وقد أخرجہ: مسند احمد ( 4/108 ) ( صحیح )»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جوتے پہن کر نماز پڑھنے کا بیان۔`
ابن ابی اوس کہتے ہیں کہ میرے دادا اوس رضی اللہ عنہ کبھی نماز پڑھتے ہوئے مجھے اشارہ کرتے تو میں انہیں ان کے جوتے دے دیتا (وہ پہن لیتے اور نماز پڑھتے) اور (پھر نماز کے بعد) کہتے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے جوتے پہن کر نماز پڑھتے دیکھا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1037]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نماز میں اشارہ کرنا جائز ہے۔

(2)
نماز کے دوران میں جوتے پہن لینا یا اتار دینا جائز ہے۔

(3)
جوتے پہن کر نماز پڑھنا بھی جائز ہے۔
اوراتار کر بھی، البتہ اگر جوتوں میں نجاست لگی ہوئی نظر آرہی ہو تو ایسے جوتے پہن کر نماز درست نہیں۔
جب تک کہ انھیں صاف نہ کرلیا جائے۔
مٹی وغیرہ لگی ہو تو شک نہیں کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1037 سے ماخوذ ہے۔