حدیث نمبر: 1019
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كُنَّا نُسَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ فَقِيلَ لَنَا : إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نماز میں سلام کیا کرتے تھے ، پھر ہمیں ارشاد ہوا کہ نماز میں خود ایک مشغولیت ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: جس میں نمازی کو مصروف رہنا چاہیے، اور دوسرا کام نہیں کرنا چاہئے، وہ کام جس میں نمازی کو مصروف رہنا چاہئے اللہ تعالیٰ کی یاد ہے، اور اس سے خشوع کے ساتھ دل لگانا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1019
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفة الأشراف: 9525، ومصباح الزجاجة: 365 )، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العمل في الصلاة 3 ( 1201 )، 15 ( 1216 )، المناقب 37 ( 3875 )، صحیح مسلم/ المساجد 7 ( 538 )، سنن ابی داود/الصلاة 170 ( 923 )، مسند احمد ( 1/376، 409 ) ( صحیح )»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نمازی دوران نماز سلام کا جواب کیسے دے؟`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نماز میں سلام کیا کرتے تھے، پھر ہمیں ارشاد ہوا کہ نماز میں خود ایک مشغولیت ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1019]
اردو حاشہ:
فائدہ: جب نماز میں بات چیت کرنے کی اجازت تھی تو سلام بھی کیا جاتا تھا بعد میں یہ حکم دے دیا گیا کہ کوئی نمازی نماز کے دوران میں دوسرے آدمی کو سلام نہ کرے۔
اس کے لئے نماز کی مصروفیت کافی ہے  پوری توجہ سے ادعیہ اور اذکار میں مصروف رہے۔
لیکن گزشتہ احادیث سے معلوم ہوا کہ نمازی خود تو کسی کو سلام نہیں کرسکتا۔
تاہم اسے سلام کیا جا سکتا ہے۔
وہ زبان سے تو سلام کاجواب نہیں دے سکتا۔
البتہ اشارے سے جواب دے سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1019 سے ماخوذ ہے۔