سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : الْمُصَلِّي يُسَلَّمُ عَلَيْهِ كَيْفَ يَرُدُّ باب: نمازی دوران نماز سلام کا جواب کیسے دے؟
حدیث نمبر: 1018
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ ، ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَأَشَارَ إِلَيَّ ، فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِي فَقَالَ : " إِنَّكَ سَلَّمْتَ عَلَيَّ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت کے تحت بھیجا ، جب میں واپس آیا تو آپ نماز پڑھ رہے تھے ، میں نے آپ کو سلام کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے جواب دیا ، جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو مجھے بلایا ، اور پوچھا : ” ابھی تم نے مجھے سلام کیا ، اور میں نماز پڑھ رہا تھا “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ آپ ﷺ نے اس لئے فرمایا کہ جابر رضی اللہ عنہ کو جواب نہ دینے کی وجہ معلوم ہو جائے اور ان کے دل کو رنج نہ ہو، سبحان اللہ آپ کو اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کا کس قدر خیال تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1190 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´نماز میں اشارے سے سلام کے جواب دینے کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت کے لیے بھیجا، جب میں (واپس آیا تو) میں نے آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا، تو میں نے (اسی حالت میں) آپ کو سلام کیا، تو آپ نے مجھے اشارے سے جواب دیا، جب آپ نماز پڑھ چکے تو مجھے بلایا، اور فرمایا: ” تم نے ابھی مجھے سلام کیا تھا، اور میں نماز پڑھ رہا تھا “، اور اس وقت آپ پورب کی طرف رخ کیے ہوئے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1190]
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت کے لیے بھیجا، جب میں (واپس آیا تو) میں نے آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا، تو میں نے (اسی حالت میں) آپ کو سلام کیا، تو آپ نے مجھے اشارے سے جواب دیا، جب آپ نماز پڑھ چکے تو مجھے بلایا، اور فرمایا: ” تم نے ابھی مجھے سلام کیا تھا، اور میں نماز پڑھ رہا تھا “، اور اس وقت آپ پورب کی طرف رخ کیے ہوئے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1190]
1190۔ اردو حاشیہ: ”مشرق کی طرف“ سے مراد یہ ہے کہ آپ بیت اللہ کی طرف رخ کر کے نماز نہیں پڑھ رہے تھے کیونکہ مدینے میں قبلہ تو جنوب کی طرف ہے لیکن سفر کے دوران میں نفل نماز کے لیے قبلہ رخ ہونا ضروری نہیں۔ صرف آغاز میں سواری کا رخ قبلے کی طرف کرنا ضروری ہے، بعد میں چاہے سواری کا رخ جدھر بھی ہو جائے، نماز پڑھتے رہنا چاہیے۔ اس سے نمازی کو سلام کرنے اور نمازی کا اشارے سے جواب دینا بھی ثابت ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1190 سے ماخوذ ہے۔