حدیث نمبر: 1007
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ أَبُو جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْكِلَابِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سَلِيمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ مَيْسَرَةَ الْمَسْجِدِ تَعَطَّلَتْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ عَمَّرَ مَيْسَرَةَ الْمَسْجِدِ كُتِبَ لَهُ كِفْلَانِ مِنَ الْأَجْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا : مسجد کا بایاں جانب خالی ہو گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے مسجد کا بائیں جانب آباد کیا ، اسے دہرا اجر ملے گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1007
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،لضعف ليث بن أبي سليم ‘‘, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 413
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفة الأشراف: 8320، ومصباح الزجاجة: 362 ) ( ضعیف )» ( اس کی سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´صف کے داہنی جانب کی فضیلت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: مسجد کا بایاں جانب خالی ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے مسجد کا بائیں جانب آباد کیا، اسے دہرا اجر ملے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1007]
اردو حاشہ:
فائدہ: یہ روایت ضعیف ہے۔
اس لئے اس میں بیان کردہ فضیلت کا اثبات نہیں ہوتا۔
تاہم پہلی صف نامکمل چھوڑ کر دوسری صف میں کھڑا ہونا درست نہیں ویسے بھی پہلی صف دوسری سے افضل ہے تو پہلی صف کا بایاں حصہ بھی دوسری صف کے دایئں حصے سے افضل ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1007 سے ماخوذ ہے۔