سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : فَضْلِ مَيْمَنَةِ الصَّفِّ باب: صف کے داہنی جانب کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1005
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى مَيَامِنِ الصُّفُوفِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صفوں کے دائیں جانب پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے ، اور اس کے فرشتے دعائے خیر کرتے ہیں “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اللہ تعالیٰ کی صلاۃ رحمت اور فرشتوں کی صلاۃ دعا ہے، یہ جب ہے کہ دائیں اور بائیں طرف برابر ہوں، اور دونوں طرف نمازی ہوں اگر بائیں جانب خالی ہو اور ادھر نمازی نہ ہوں، تو بائیں جانب میں بھی وہی فضیلت ہو گی، جو دائیں جانب میں ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب إقامة الصلاة والسنة / حدیث: 1005
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (676), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 413
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 676
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´صف کے داہنی جانب کی فضیلت کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” صفوں کے دائیں جانب پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے، اور اس کے فرشتے دعائے خیر کرتے ہیں “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1005]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” صفوں کے دائیں جانب پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے، اور اس کے فرشتے دعائے خیر کرتے ہیں “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1005]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اللہ ﷺ ہر اس کام میں دایئں طرف کو ترجیح دیتے تھے۔
جو طبعاً شرعاً مستحسن ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ارشاد ہے۔
رسول اللہ ﷺ اپنے تمام کاموں میں (جیسے)
وضو کرنے، کنگھی کرنے اور جوتے پہننے میں دایئں طرف سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے۔ (صحیح البخاري، الوضوء، باب التیمن فی الوضوء والغسل، حدیث: 168، وصحیح مسلم، الطھارۃ، باب التیمن فی الطھور وغیرہ، حدیث: 268)
اس حدیث کی روشنی میں نماز میں کھڑے ہوتے وقت بھی ممکن حد تک دایئں طرف کھڑے ہونے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔
لیکن یہ روایت صحیح ابن خزیمہ، مسند احمد اورسنن بہیقی وغیرہ میں بہ ایں الفاظ مروی ہے۔ (اِنَّ اللهَ وَمَلاَئِكَتُهُ يُصَلُّوْنَ عَلَي الَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ الصَّفُوْفَ)
اللہ تعالیٰ صفوں کے ملانے والوں پر رحمت نازل کرتا ہے اور فرشتے ان کےلئے دعایئں کرتے ہیں۔
اورامام بہیقی شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ اور مسند احمد کے محققین کے نزدیک یہ روایت انہی الفاظ کے ساتھ محفوظ اور صحیح ہے گویا ان کے نزدیک اس حدیث میں (مَیَامِنَ الصَّفُوف)
کی بجائے (يَصِلُونَ الصَّفُوف)
ہی کے الفاظ ہیں۔
ملاحظہ ہو: (تمام المنة، ص: 288، وضعیف سنن ابی داؤد رقم: 676 والموسوعة الحدیثیة (مسند أحمد)
ج 444/40 رقم الحدیث 24381)
اس اعتبار سے اس حدیث سے صفوں کے ملانے کی فضیلت کا اثبات ہوتا ہے۔
نہ کہ امام کے دایئں جناب کھڑے ہونے کی فضیلت کا جس کا مطلب یہ ہے کہ امام کے دایئں یا بایئں جانب کھڑا ہونا یکساں ہے۔
اصل فضیلت صف بندی کا صحیح طریقے سے اہتمام کرنے میں ہے۔
تاہم ہر معاملے میں دایئں جانب کی جو عمومی فضیلت ہے اس کے تحت امام کی داہنی جانب باعث فضیلت ہو سکتی ہے۔
واللہ أعلم۔
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اللہ ﷺ ہر اس کام میں دایئں طرف کو ترجیح دیتے تھے۔
جو طبعاً شرعاً مستحسن ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ارشاد ہے۔
رسول اللہ ﷺ اپنے تمام کاموں میں (جیسے)
وضو کرنے، کنگھی کرنے اور جوتے پہننے میں دایئں طرف سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے۔ (صحیح البخاري، الوضوء، باب التیمن فی الوضوء والغسل، حدیث: 168، وصحیح مسلم، الطھارۃ، باب التیمن فی الطھور وغیرہ، حدیث: 268)
اس حدیث کی روشنی میں نماز میں کھڑے ہوتے وقت بھی ممکن حد تک دایئں طرف کھڑے ہونے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔
لیکن یہ روایت صحیح ابن خزیمہ، مسند احمد اورسنن بہیقی وغیرہ میں بہ ایں الفاظ مروی ہے۔ (اِنَّ اللهَ وَمَلاَئِكَتُهُ يُصَلُّوْنَ عَلَي الَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ الصَّفُوْفَ)
اللہ تعالیٰ صفوں کے ملانے والوں پر رحمت نازل کرتا ہے اور فرشتے ان کےلئے دعایئں کرتے ہیں۔
اورامام بہیقی شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ اور مسند احمد کے محققین کے نزدیک یہ روایت انہی الفاظ کے ساتھ محفوظ اور صحیح ہے گویا ان کے نزدیک اس حدیث میں (مَیَامِنَ الصَّفُوف)
کی بجائے (يَصِلُونَ الصَّفُوف)
ہی کے الفاظ ہیں۔
ملاحظہ ہو: (تمام المنة، ص: 288، وضعیف سنن ابی داؤد رقم: 676 والموسوعة الحدیثیة (مسند أحمد)
ج 444/40 رقم الحدیث 24381)
اس اعتبار سے اس حدیث سے صفوں کے ملانے کی فضیلت کا اثبات ہوتا ہے۔
نہ کہ امام کے دایئں جناب کھڑے ہونے کی فضیلت کا جس کا مطلب یہ ہے کہ امام کے دایئں یا بایئں جانب کھڑا ہونا یکساں ہے۔
اصل فضیلت صف بندی کا صحیح طریقے سے اہتمام کرنے میں ہے۔
تاہم ہر معاملے میں دایئں جانب کی جو عمومی فضیلت ہے اس کے تحت امام کی داہنی جانب باعث فضیلت ہو سکتی ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1005 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 676 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کن لوگوں کا صف میں امام کے قریب رہنا مستحب اور پیچھے رہنا مکروہ ہے؟`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ صفوں کے دائیں طرف کے لوگوں پر اپنی رحمت بھیجتا ہے، اور اس کے فرشتے ان کے لیے دعا کرتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 676]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ صفوں کے دائیں طرف کے لوگوں پر اپنی رحمت بھیجتا ہے، اور اس کے فرشتے ان کے لیے دعا کرتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 676]
676۔ اردو حاشیہ:
مسلمان کو فضیلت والے مقام کی طرف سبقت کرنا اور اس کا حریص ہونا چاہیے تاکہ خصوصی رحمتوں اور فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق بن سکے۔ خیال رہے کہ امام کی بائیں جانب کو بھی نہیں بھول جانا چاہیے تاکہ ”صفوں کی برابری“ قائم رہے۔ اجر و فضیلت کا تعلق نیت سے بھی ہوتا ہے۔ ایک آدمی جسے امام کی دائیں جانب کھڑا ہونا ممکن ہے مگر جب دیکھتا ہے کہ اس کی بائیں جانب خالی ہے تو اس طرف کھڑا ہو جائے، تو ان شاء اللہ مذکورہ اجر و فضیلت سے محروم نہیں رہے گا۔ «والله ذو فضل عظيم . والله اعلم»
علاوہ ازیں یہ روایت صحیح ابن خزیمہ اور مسند احمد [الفتح الرباني: 5؍ 316]، والموسوعۃ الحدیثیۃ [مسند احمد، حديث: 24381] میں بایں الفاظ ہے۔ «ان الله وملائكته يصلون على الذين يصلون الصفوف» ”اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر رحمت نازل فرماتا اور فرشتے ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں جو صفوں کو ملاتے ہیں۔“ اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو انہی الفاظ کے ساتھ ’’حسن“ قرار دیا ہے۔ گویا ان کے نزدیک اس حدیث میں «ميامن الصفوف» کی بجائے «يصلون الصفوف» ہی کے الفاظ ہیں، جن سے صفوں کے ملانے کی فضیلت کا اثبات ہوتا ہے، نہ کہ امام کے دائیں جانب کھڑے ہونے کی فضیلت کا اثبات، جس کا مطلب یہ ہے کہ امام کے دائیں یا بائیں جانب کھڑا ہونا یکساں ہے، افضل فضیلت، صف بندی کا صحیح طریقے سے اہتمام کرنے میں ہے۔ تاہم ہر معاملے میں داہنے پن کی جو عمومی فضیلت ہے، اس کے تحت امام کی داہنی جانب باعث فضیلت ہو سکتی ہے۔ «والله اعلم»
مسلمان کو فضیلت والے مقام کی طرف سبقت کرنا اور اس کا حریص ہونا چاہیے تاکہ خصوصی رحمتوں اور فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق بن سکے۔ خیال رہے کہ امام کی بائیں جانب کو بھی نہیں بھول جانا چاہیے تاکہ ”صفوں کی برابری“ قائم رہے۔ اجر و فضیلت کا تعلق نیت سے بھی ہوتا ہے۔ ایک آدمی جسے امام کی دائیں جانب کھڑا ہونا ممکن ہے مگر جب دیکھتا ہے کہ اس کی بائیں جانب خالی ہے تو اس طرف کھڑا ہو جائے، تو ان شاء اللہ مذکورہ اجر و فضیلت سے محروم نہیں رہے گا۔ «والله ذو فضل عظيم . والله اعلم»
علاوہ ازیں یہ روایت صحیح ابن خزیمہ اور مسند احمد [الفتح الرباني: 5؍ 316]، والموسوعۃ الحدیثیۃ [مسند احمد، حديث: 24381] میں بایں الفاظ ہے۔ «ان الله وملائكته يصلون على الذين يصلون الصفوف» ”اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر رحمت نازل فرماتا اور فرشتے ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں جو صفوں کو ملاتے ہیں۔“ اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو انہی الفاظ کے ساتھ ’’حسن“ قرار دیا ہے۔ گویا ان کے نزدیک اس حدیث میں «ميامن الصفوف» کی بجائے «يصلون الصفوف» ہی کے الفاظ ہیں، جن سے صفوں کے ملانے کی فضیلت کا اثبات ہوتا ہے، نہ کہ امام کے دائیں جانب کھڑے ہونے کی فضیلت کا اثبات، جس کا مطلب یہ ہے کہ امام کے دائیں یا بائیں جانب کھڑا ہونا یکساں ہے، افضل فضیلت، صف بندی کا صحیح طریقے سے اہتمام کرنے میں ہے۔ تاہم ہر معاملے میں داہنے پن کی جو عمومی فضیلت ہے، اس کے تحت امام کی داہنی جانب باعث فضیلت ہو سکتی ہے۔ «والله اعلم»
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 676 سے ماخوذ ہے۔