سنن ابن ماجه
كتاب إقامة الصلاة والسنة— کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : صَلاَةِ الرَّجُلِ خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ باب: صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھنے کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ ، وَكَانَ مِنَ الْوَفْدِ قَالَ : خَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْنَاهُ ، وَصَلَّيْنَا خَلْفَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْنَا وَرَاءَهُ صَلَاةً أُخْرَى ، فَقَضَى الصَّلَاةَ ، فَرَأَى رَجُلًا فَرْدًا يُصَلِّي خَلْفَ الصَّفِّ ، قَالَ : فَوَقَفَ عَلَيْهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ انْصَرَفَ ، قَالَ : " اسْتَقْبِلْ صَلَاتَكَ ، لَا صَلَاةَ لِلَّذِي خَلْفَ الصَّفِّ " .
´علی بن شیبان رضی اللہ عنہ اور ( وہ وفد میں سے تھے ) کہتے ہیں کہ` ہم سفر کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور آپ کے پیچھے نماز پڑھی ، پھر ہم نے آپ کے پیچھے دوسری نماز پڑھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کرنے کے بعد ایک شخص کو دیکھا کہ وہ صف کے پیچھے اکیلا نماز پڑھ رہا ہے ، آپ اس کے پاس ٹھہرے رہے ، جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دوبارہ نماز پڑھو ، جو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی “ ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
علی بن شیبان رضی اللہ عنہ اور (وہ وفد میں سے تھے) کہتے ہیں کہ ہم سفر کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور آپ کے پیچھے نماز پڑھی، پھر ہم نے آپ کے پیچھے دوسری نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کرنے کے بعد ایک شخص کو دیکھا کہ وہ صف کے پیچھے اکیلا نماز پڑھ رہا ہے، آپ اس کے پاس ٹھہرے رہے، جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " دوبارہ نماز پڑھو، جو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1003]
فوائد و مسائل:
(1)
صف کے پیچھے اکیلے کھڑے ہونا منع ہے اور نماز نہیں ہوتی۔
یہ تب ہے جب صف میں کھڑے ہونے کی جگہ ہو اور وہ اس کے باوجود پچھلی صف میں اکیلا ہی کھڑا ہوجائے۔
اگراگلی صف میں جگہ نہ ہو تو پھر اس کی مجبوری ہے۔
امید ہے اسے معذور سمجھا جائےگا۔
باقی رہی بات اگلی صف سے کسی کو کھینچ کرساتھ ملانے کی تو وہ روایت بالاتفاق ضعیف ہے۔ 2۔
اگر عورت کے ساتھ کھڑے ہونے کے لئے دوسری عورت موجود نہ ہو تو عورت مردوں کی صف میں کھڑی نہیں ہوسکتی۔
اسے اکیلا ہی کھڑا ہوجانا چاہیے۔
دیکھئے۔ (صحیح البخاري، الأذان، باب المرأۃ وحدھا تکون صفاً، حدیث: 727)