کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: کسی حادثے کا خدشہ ہوتو مکہ مکرمہ میں بغیر احرام باندھے داخل ہونے کی رخصت ہے
حدیث نمبر: 3063
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ ، وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ ، فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْنُ أَخْطَلَ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْتُلُوهُ " ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ، وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکّہ والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس حال میں مکّہ مکرّمہ میں داخل ہوئے کہ آپ کے سر مبارک پر خَود تھا ۔ جب آپ نے خَود اُتارا تو ایک شخص آپ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ، ابن خطل کعبہ شریف کے پردوں سے چمٹا ہوا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے قتل کر دو ۔ ‘‘ امام ابن شہاب زہری فرماتے ہیں کہ اُس دن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم محرم نہیں تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 3063
تخریج حدیث صحيح بخاري
حدیث نمبر: 3064
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبَعَثَ مَعِي رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ : " ائْتِيَا أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ ، فَاقْتُلاهُ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ : فَلَمَّا دَخَلْنَا مَكَّةَ ، قَالَ لِي صَاحِبِي : هَلْ لَكَ أَنْ نَبْدَأَ فَنَطُوفَ بِالْبَيْتِ أُسْبُوعًا ، وَنُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ؟ فَقُلْتُ : أَنَا أَعْلَمُ بِأَهْلِ مَكَّةَ ، أَنَّهُمْ إِذَا أَظْلَمُوا رَسُوا أَفْنِيَتَهُمْ ، ثُمَّ جَلَسُوا بِهَا ، وَأَنَا أَعْرِفُ فِيهَا مِنَ الْفَرَسِ الأَبْلَقِ ، فَلَمْ يَزَلْ بِي حَتَّى أَتَيْنَا الْبَيْتَ ، فَطُفْنَا بِهِ أُسْبُوعًا وَصَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ خَرَجْنَا
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب امیہ الضمری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور میرے ساتھ ایک انصاری شخص کو بھیجا اور حُکم دیا : ” ابوسفیان کے پاس جاؤ اور اسے قتل کردو ۔ “ پھر مکمّل حدیث بیان کی ۔ اور بیان کرتے ہیں ۔ پھر جب ہم مکّہ مکرّمہ میں داخل ہوئے تو میرے ساتھی نے مجھ سے کہا ، کیا خیال ہے کیا ہم پہلے بيت اللہ شریف کا طواف کرکے دو رکعت نماز نہ پڑھ لیں ؟ میں نے کہا کہ مجھے اہلِ مکّہ کی عادت و طریقے کا علم ہے کہ جب رات کا اندھیرا ہوتا ہے تو وہ اپنے گھروں کے صحن میں پانی چھڑک کر محفل جما کر بیٹھتے ہیں اور میں مکّہ مکرّمہ میں چتکبرے گھوڑے کے مالک کو بھی پہچانتا ہوں ( اس لئے ابھی تم پہلے اصلی کام کی طرف آؤ ) لیکن وہ مسلسل اصرار کرتا رہا اور وہ مجھے اس بات پر آمادہ کرتا رہا حتّیٰ کہ ہم بیت اللہ شریف پہنچ گئے اور ہم نے طواف کے سات چکّر لگائے اور دو رکعات ادا کیں پھر ہم وہاں سے نکل گئے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 3064
تخریج حدیث اسناده ضعيف