کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: حج کے لئے کرائے پر سواری دینا اور سواری والے کا خود بھی حج کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: Q3051
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ أَكْرَ الْمَرْءِ نَفْسَهُ فِي الْعَمَلِ طَلْقٌ مُبَاحٌ، إِذْ هُوَ مِنِ ابْتِغَاءِ فَضْلِ اللَّهِ لِأَخْذِهِ الْأُجْرَةَ عَلَى ذَلِكَ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اس کی دلیل یہ ہے کہ جائز کاموں میں پیسے معاوضہ لینا مطلقاً درست ہے کیونکہ یہ اللہ کے فضل ( تجارت ) پر محنت مزدوری لی جارہی ہے اور یہ اجرت لینا جائز ہے
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: Q3051
حدیث نمبر: 3051
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْعَلاءُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ التَّيْمِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ لابْنِ عُمَرَ : إِنَّا قَوْمٌ نُكْرِي فِي هَذِهِ الْوَجْهِ ، وَإِنَّ قَوْمِي يَزْعُمُونَ أَنَّهُ لا حَجَّ لَنَا ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : أَلَسْتُمْ تَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ ؟ أَلَسْتُمْ تَسْعَوْنَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ؟ أَلَسْتُمْ ، أَلَسْتُمْ ، إِنَّ رَجُلا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ مِثْلَ مَا سَأَلَتْنِي فَلَمْ يَدْرِ مَا يَرُدُّ عَلَيْهِ حَتَّى نَزَلَتْ : لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ سورة البقرة آية 198 ، فَدَعَاهُ فَتَلاهَا عَلَيْهِ ، وَقَالَ : " أَنْتُمْ حُجَّاجٌ " ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الْكِنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ الْمُسَيِّبِ .
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب ابوامامہ التیمی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ بیشک ہم لوگ سفر حج میں لوگوں کو کرائے پر سواریاں مہیا کرتے ہیں اور میری قوم کے لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا حج ادا نہیں ہوتا ( کیونکہ ہم کرائے پر دیئے ہوئے اونٹوں کو چلاتے ہیں ) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا ، کیا تم بیت الله کا طواف نہیں کرتے ہو ؟ کیا تم صفا اور مروہ کی سعی نہیں کرتے ہو ؟ کیا تم حج کے فلاں فلاں اعمال ادا نہیں کرتے ہو ؟ بیشک ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اُس نے آپ سے ایسا ہی سوال پوچھا جیسا تم نے مجھ سے پوچھا ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا جواب معلوم نہ تھا حتّیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی « لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ » [ سورة البقرة : 198] ”تم پرکوئی گناہ نہیں کہ تم ( حج کے دوران ) اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔“ چنانچہ آپ نے اُس شخص کو بلایا اور اُسے یہ آیت تلاوت کرکے سنائی اور فرمایا : ”کہ تم بھی حاجی ہو ۔“
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 3051
تخریج حدیث اسناده صحيح
حدیث نمبر: 3052
بِهَذَا الإِسْنَادِ ، حَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيِّ ، وَأَنَا بَرِيءٌ مِنْ عُهْدَتِهِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ التَّمِيمِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ لابْنِ عُمَرَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
امام صاحب نے نے گزشتہ حدیث کی ایک اور سند بیان کی ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 3052
تخریج حدیث انظر الحديث السابق