کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: اگر کسی نے پیدل چل کر حج کرنے کی نذر مانی پھر وہ چلنے سے عاجز آگیا ،تھک ہار گیا تو وہ کیا کرے ہے ۔ اس سلسلے میں ایک مختصر غیر مفسل روایت کا بیان
حدیث نمبر: 3043
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَ شَيْخًا كَبِيرًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ يَتَوَكَّأُ عَلَيْهِمَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا شَأْنُ هَذَا الشَّيْخِ ؟ " فَقَالَ ابْنَاهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَانَ عَلَيْهِ نَذْرٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْكَبْ أَيُّهَا الشَّيْخُ ، فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْكَ ، وَعَنْ نَذْرِكَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوڑھے شخص کو اس حال میں دیکھا کہ وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان اُن کا سہارا لیکر گھسٹ کر چلا آ رہا تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” اس بوڑھے شخص کو کیا ہوا ہے؟ “ اُس کے دونوں بیٹوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ، بابا جی نے پیدل چلنے کی نذر مانی ہوئی ہے ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے بڑے میاں ؟ سوار ہو جا ، بیشک الله تعالیٰ تم سے اور تمھاری ایسی نذر سے بے پرواہ ہے ۔
حدیث نمبر: 3044
حَدَّثَنَا الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ : إِمَّا سَمِعْتُ أَنَسًا ، وَإِمَّا عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَيَّاضٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى شَيْخًا كَبِيرًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا هَذَا ؟ " قَالُوا : نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ لَغَنِيٌّ " ، قَالَ : فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جو اپنے دو بیٹوں کا سہارا لیکر گھسٹ گھسٹ کر چل رہا تھا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” یہ کیا ہو رہا ہے ۔ ‘‘ صحابہ کرام نے عرض کیا ۔ بڑے میاں نے بیت اللہ شریف تک پیدل چل کر جانے ( اور حج وعمرہ کرنے ) کی نذر مانی ہوئی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک اللہ تعالیٰ اس شخص کے اپنی جان کو اذیت میں ڈالنے سے بے پرواہ ہے ۔ “ پھر آپ نے اسے سوار ہونے کا حُکم دیا ۔