کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ بیت اللہ شریف میں داخل ہونا واجب نہیں ہے
حدیث نمبر: Q3014
إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْلَمَ بَعْدَ دُخُولِهِ إِيَّاهَا أَنَّهُ وَدَّ أَنْ لَمْ يَكُنْ دَخَلَهَا مَخَافَةَ إِتْعَابِ أُمَّتِهِ بَعْدَهُ، وَهَذَا كَتَرْكِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ التَّطَوُّعِ وَالَّذِي كَانَ يُحِبُّ أَنْ يَفْعَلَهُ لِإِرَادَةِ التَّخْفِيفِ عَلَى أُمَّتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 3014
حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِي وَهُوَ قَرِيرُ الْعَيْنِ ، طَيِّبُ النَّفْسِ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ وَهُوَ حَزِينٌ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خَرَجْتَ مِنْ عِنْدِي ، وَأَنْتَ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : " إِنِّي دَخَلْتُ الْكَعْبَةَ ، وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ فَعَلْتُ ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَكُونَ قَدْ أَتْعَبْتُ أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے تشریف لے گئے تو آپ بڑے خوش وخرم اور ہشاش بشاش تھے ۔ پھر آپ میرے پاس واپس آئے تو آپ بڑے غمگین تھے ۔ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ میرے پاس سے بڑے خوش اور مسرور گئے تھے اور اب آپ افسردہ نظر آرہے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں کعبہ شریف میں داخل ہوا ہوں ، میری خواہش ہے کہ میں داخل نہ ہوتا تو اچھا تھا ۔ مجھے ڈر ہے کہ میں نے اپنے بعد اُمّت کو تکلیف اور مشقّت میں ڈال دیا ہے ۔