کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: آدمی جب بیت اللہ میں داخل ہو تو اس پر خشوع خضوع کی کیفیت ہونی چاہیے اور بیت اللہ سے واپس نکلنے تک نگاہیں سجدہ کی جگہ پر ہونی چاہئیں
حدیث نمبر: 3012
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ مَالِكٍ اللَّخْمِيُّ التِّنِّيسِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، كَانَتْ تَقُولُ : " عَجَبًا لِلْمَرْءِ الْمُسْلِمِ إِذَا دَخَلَ الْكَعْبَةَ كَيْفَ يَرْفَعُ بَصَرَهُ قِبَلَ السَّقْفِ ، يَدَعُ ذَلِكَ إِجْلالا لِلَّهِ وَإِعْظَامًا ، دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ مَا خَلَفَ بَصَرُهُ مَوْضِعَ سُجُودِهِ حَتَّى خَرَجَ مِنْهَا "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
حضرت سالم بن عبداللہ رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی تھیں کہ مسلمان آدمی پرتعجب ہے کہ جب وہ بیت الله شریف کے اندر داخل ہوتا ہے تو اپنی نگاہیں چھت کی طرف کیسے اُٹھاتا ہے ۔ وہ یہ کام اللہ کے جلال اور عظمت کے اقرار کے لئے کرتا ہے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے تھے تو آپ نے اپنی نظریں اپنے سجدے کی جگہ جمائے رکھی تھیں حتّیٰ کہ آپ باہر تشریف لے آئے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 3012
تخریج حدیث اسناده ضعيف