کتب حدیث ›
صحيح ابن خزيمه › ابواب
› باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی گزشتہ حدیث کے الفاظ عام ہیں اور اس سے مراد خاص ہے ۔
حدیث نمبر: Q3001
وَالدَّلِيلُ [عَلَى] أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ: " لَا يَنْفِرَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرَ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ "، خَلَا الْحَيِضَ، بِذِكْرِ لَفْظَةٍ عَامٌّ مُرَادُهَا خَاصٌّ فِي ذِكْرِ الْحَيْضِ.
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان ” کوئی بھی شخص آخری بار بیت اللہ شریف کا طواف کیے بغیر واپس نہ جائے “ سے آپ کی مراد حائضہ عورتوں کے علاوہ لوگ ہیں لیکن اس سلسلے میں وارد حدیث میں حائضہ عورت کا ذکر عام ہے اور مراد خاص ہے
حدیث نمبر: 3001
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " مَنْ حَجَّ فَلْيَكُنْ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ ، إِلا الْحُيَّضَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لَهُنَّ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جو شخص حج کرے تو وہ مکّہ مکرّمہ میں آخری کام بیت اللہ شریف کا طواف کرے ، سوائے حائضہ عورتوں کے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں طواف وداع نہ کرنے کی رخصت دی ہے ۔