کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وادی ابطح میں صرف اس لئے اترے تھے تاکہ آپ کی روانگی آسان ہو اگرچہ آپ نے منیٰ ہی میں صحابہ کرام کو بتادیا تھا کہ آپ وادی ابطح میں اتریں گے
حدیث نمبر: Q2987
وَإِنْ كَانَ قَدْ أَعْلَمَهُمْ وَهُوَ بِمِنًى أَنَّهُ نَازِلٌ بِهِ مَعَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ نُزُولَهُ لَيْسَ مِنْ سُنَنِ الْحَجِّ الَّذِي يَكُونُ تَارِكُهُ عَاصِيًا، أَوْ يُوجِبُ تَرْكُ نُزُولِهِ هَدْيًا‏.‏
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اس بات کی دلیل کے بیان کے ساتھ کہ وادی ابطح میں اترنا حج کے لازمی افعال میں سے نہیں ہے کہ اس کو چھوڑنے والا گناہ گار ہو یا اس میں نہ اترنے پرایک قربانی کرنا کفّارہ واجب ہوتا ہو
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: Q2987
حدیث نمبر: 2987
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " إِنَّمَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَصَّبَ لِيَكُونَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ ، فَمَنْ شَاءَ نَزَلَهُ ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وادی ابطح میں صرف اس لئے اُترے تھے کیونکہ یہاں سے ( مدینہ منوّرہ ) روانہ ہونا آسان تھا لہٰذا جو شخص چاہے اس وادی میں اُترے اور جو چاہے نہ اترے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2987
تخریج حدیث صحيح بخاري
حدیث نمبر: 2988
حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " نُزُولُ الْمُحَصَّبِ لَيْسَ مِنَ السُّنَّةِ ، إِنَّمَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَكُونَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : قَوْلُهَا : لَيْسَ مِنَ السُّنَّةِ تُرِيدُ لَيْسَ مِنَ السُّنَّةِ الَّتِي يَجِبُ عَلَى النَّاسِ الائْتِمَامُ بِفِعْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ كُلُّ مَا فَعَلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنْ كَانَ مِنْ فِعْلِ الْمُبَاحِ فَقَدْ يَقَعُ عَلَيْهِ اسْمُ السُّنَّةِ أَيْ أَنَّ لِلنَّاسِ الاسْتِنَانَ بِهِ إِذْ هُوَ مُبَاحٌ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِمْ أَنْ يَفْعَلُوا ذَلِكَ الْفِعْلَ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ۔ وادی محصب میں قیام کرنا سنّت نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وادی میں صرف اس لئے قیام کیا تھا کہ یہ آپ کی روانگی کے لئے آسان جگہ تھی۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ فرمان وادی محصب میں قیام کرنا سنّت نہیں ہے ۔ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ ایسا فعل نہیں ہے کہ جس کی اقتداء کرنا لوگوں کے لئے واجب ہو ۔ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام افعال اگرچہ وہ مباح ہی ہوں اُن پر سنّت کا لفظ تو بولا جاتا ہے ۔ لیکن لوگ اس سنّت کی پیروی کرسکتے ہیں کیونکہ یہ مباح ہے لیکن ان پر یہ فعل واجب نہیں ہے ۔ ( کہ اس کام کو نہ کرنے والا گناہ گار ہوجائے یا اس پر کفّارہ واجب ہو جائے ) ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2988
تخریج حدیث انظر الحديث السابق