حدیث نمبر: 2973
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ زِيَادِ بْنِ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، وَهَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حِصْنٍ ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي سَرَّاءُ بِنْتُ نَبْهَانَ وَكَانَتْ رَبَّةَ بَيْتٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، قَالَتْ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الرُّءُوسِ فَقَالَ : " أَيُّ بَلَدٍ هَذَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " أَلَيْسَ الْمَشْعَرُ الْحَرَامِ ؟ " قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : " فَأَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " أَلَيْسَ أَوْسَطُ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ؟ " قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ زَادَ إِسْحَاقُ وَأَعْرَاضَكُمْ ، وَقَالا : وَأَمْوَالَكُمْ ، عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا " ، زَادَ إِسْحَاقُ : " فَلْيُبَلِّغْ أَدْنَاكُمْ أَقْصَاكُمْ ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ؟ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ؟ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ؟ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
حضرت براء بنت نبہان بیان کرتی ہیں کہ یہ زمانہ جاہلیت میں ایک بت کدے کی نگران تھیں وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یوم الرؤوس (سری کھانے کے دن بارہ ذوالحجہ ) کو خطبہ ارشاد فرمایا تو کہا : ” یہ کونسا شہر ہے؟ “ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بخوبی جانتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ” کیا یہ مشعر حرام نہیں ہے؟ “ ہم نے جواب دیا کہ کیوں نہیں ۔ آپ نے پوچھا : ” آج کونسا دن ہے؟ “ ہم نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ” کیا یہ ایام تشریق کا درمیانی دن نہیں ہے؟ “ ہم نے جواب دیا کہ کیوں نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پس بیشک تمھارے خون “ اسحاق کی روایت میں اضافہ ہے کہ ” اور تمھاری عزّتیں اور تمہارے مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارا آج کا دن تمہارے اس مہینے اور تمہارے اس شہر میں حرمت والا ہے ۔ “ جناب اسحاق نے یہ اضافہ بیان کیا ہے ” لہٰذا چاہیے کہ تم میں سے نزدیک والا شخص دور والے کو یہ احکام پہنچا دے ۔ اے اللہ ، کیا میں نے تیرے احکام پہنچا دیے ، اے اللہ کیا میں نے تیرا دین پہنچا دیا ۔ اے الله کیا میں نے تیری شریعت اور رسالت ان تک پہنچا دی ۔ “