کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: پہلے اور دوسرے جمرے پر کنکری مار کر ٹھہرنا چاہیے
حدیث نمبر: Q2972
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الْوُقُوفَ بَعْدَ رَمْيِ الْأُولَى مِنْهَا أَمَامَهَا لَا خَلْفَهَا، وَلَا عَنْ يَمِينِهَا، وَلَا عَنْ شِمَالِهَا، وَالْوُقُوفِ عِنْدَ الثَّانِيَةِ ذَاتَ الْيَسَارِ مِمَّا يَلِي الْوَادِيَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ فِي الْوَقْفَيْنِ جَمِيعًا، وَرَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الْوَقْفَيْنِ جَمِيعًا‏.‏
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اور اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ پہلے جمرے کو کنکری مار کر اس کے سامنے کھڑا ہونا چاہیے ۔ اس کے پیچھے یا اس کے دائیں بائیں نہیں کھڑا ہونا چاہیے اور دوسرے جمرے پر کنکری مار کر اس کی بائیں جانب وادی کے قریب کھڑے ہونا چاہیے ۔ پہلے اور دوسرے جمرے پر کنکری مارنے کے بعد قبلہ رخ ہوکر کھڑا ہونا چاہیے اور دونوں جگہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھانے چاہئیں
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: Q2972
حدیث نمبر: 2972
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْبِسْطَامِيُّ , قَالا : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ الَّتِي تَلِي مَسْجِدَ مِنًى يَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، فَيُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ أَمَامَهَا ، فَوَقَفَ مُسْتَقْبِلُ الْبَيْتَ رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو وَكَانَ يُطِيلُ الْوُقُوفَ ، ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الثَّانِيَةَ ، فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ ، ثُمَّ يَنْحَدِرُ ذَاتَ الْيَسَارِ مِمَّا يَلِي الْوَادِيَ ، فَيَقِفُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو ، ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الْعَقَبَةِ ، فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ ، وَلا يَقِفُ عِنْدَهَا " ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يُحَدِّثُ بِمِثْلِ هَذَا عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ ، قَالَ الْبِسْطَامِيُّ : قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، وَقَالَ فِي جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ ثُمَّ يَنْصَرِفُ ، وَلا يَقِفُ عِنْدَهَا ، وَقَالَ : يُحَدِّثُ بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ أَبِيهِ ، وَالْبَاقِي مِثْلُ لَفْظِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى سَوَاءً
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
امام زہری رحمه الله فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد کے قریب والے جمرے کو رمی کرتے تو اُسے سات کنکریاں مارتے ہر کنکری مارتے وقت « اللهُ أَكْبَرُ » پڑھتے ، پھر آپ اُس سے آگے بڑھ کر اُس کے آگے قبلہ رُخ ہوکر کھڑے ہو جاتے اور اپنے دونوں ہاتھ اُٹھا کر دعا کرتے ، آپ بڑی دیر تک کھڑے رہتے ۔ پھر آپ دوسرے جمرے کے پاس آتے اور « اللهُ أَكْبَرُ » کہتے ہوئے سات کنکریاں مارتے ۔ پھر آپ وادی کے قریب بائیں جانب نیچے اُتر کر قبلہ رُخ کھڑے ہو جاتے ، آپ اپنے دونوں ہاتھ اُٹھا کر دعائیں مانگتے ۔ پھر آپ عقبہ والے جمرہ پر آتے اور اُسے بھی سات کنکریاں مارتے ، ہر کنکری کے ساتھ « اللهُ أَكْبَرُ » پڑھتے ۔ پھر آپ واپس تشریف لے جاتے اور اس کے پاس نہیں ٹھہرتے تھے ۔ امام زہری رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم بن عبد اللہ کوسنا کہ وہ اپنے والد گرامی کے واسطے سے اسی طرح بیان کرتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح عمل کرتے تھے ۔ جناب یونس کی روایت میں ہے جب آپ جمرہ عقبہ کو رمی کرتے تو ہر کنکری کے ساتھ « اللهُ أَكْبَرُ » کہتے پھر آپ واپس تشریف لے جاتے اور اس کے پاس ٹھہرتے نہیں تھے ۔ اور فرمایا کہ حضرت سالم اپنے والد بزرگوار سے اسی طرح کی روایت بیان کرتے ہیں ۔ باقی روایت محمد بن یحیٰی کی روایت کی طرح ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2972
تخریج حدیث صحيح بخاري