کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کا بیان کہ جمرات کو کنکریاں مارنے کا اصل مقصود اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا ہے ۔ صرف کنکریاں مارنا مقصود نہیں ہے
حدیث نمبر: 2970
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، وَرَمْيُ الْجِمَارِ لإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلاشبہ بیت اللہ کا طواف ، صفا مروہ کی سعی اور جمرات کی رمی اللہ تعالیٰ کے ذکر کو قائم کرنے کے لئے مقرر کی گئی ہے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2970
تخریج حدیث تقدم ۔۔۔