کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جمرات پر کنکریاں مارنے کی ابتدا کا بیان اور اس علت کا بیان جس کی بنا پر آپ نے منیٰ آتے ہی کنکریاں ماریں
حدیث نمبر: 2967
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّرَامِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَهَبَ بِهِ لِيُرِيَهُ الْمَنَاسِكَ ، فَانْفَرَجَ لَهُ ثَبِيرٌ ، فَدَخَلَ مِنًى فَأَرَاهُ الْجِمَارَ ، ثُمَّ أَرَاهُ عَرَفَاتٍ ، فَتَتَبَّعَ الشَّيْطَانُ لِنَبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ ، فَرَمَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى سَاخَ ، ثُمَّ تَبِعَ لَهُ فِي الْجَمْرَةِ الثَّانِيَةِ ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى سَاخَ ، ثُمَّ تَبِعَ لَهُ فِي جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى سَاخَ ، فَذَهَبَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جبرائیل عليه السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے پھر آپ کو مناسک ححج دکھانے کے لئے لے گئے چنانچہ آپ کے لئے ثبیر پہاڑ سے راستہ کھل گیا تو آپ منیٰ میں داخل ہوئے۔ جبرائیل عليه السلام نے آپ کو جمرات دکھائے ۔ پھر آپ کو عرفات دکھایا ۔ پس شیطان جمرات کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے آ گیا ۔ تو آپ نے اُس کو سات کنکریاں ماریں حتّیٰ کہ وہ زمین میں دھنس گیا ۔ پھر دوسرے جمرے کے پاس آئے وہ آپ کے پیچھے آ گیا تو آپ نے اُسے پھر سات کنکریاں ماریں جس سے وہ زمین میں دھنس گیا ۔ پھر وہ جمرہ عقبہ کے پاس آپ کے پیچھے آیا تو آپ نے اُسے سات کنکریاں ماریں حتّیٰ کہ وہ زمین میں دھنس گیا ، پھر فرار ہو گیا ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2967
تخریج حدیث حسن