کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں دو رکعات اس لئے ادا کیں کیونکہ آپ مسافر تھے ، مقیم نہیں تھے ۔ کیونکہ آپ مدینہ منوّرہ کے رہائشی تھے ۔
حدیث نمبر: Q2964
إِذْ هُوَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، وَإِنَّمَا قَدِمَ مَكَّةَ حَاجًّا لَمْ يُقِمْ بِهَا إِقَامَةً يَجِبُ عَلَيْهِ إِتْمَامَ الصَّلَاةِ‏.‏
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
بلاشبہ آپ مکّہ مکرّمہ میں حج کے لئے آئے تھے اور آپ نے مکّہ مکرّمہ میں اتنے دن قیام نہیں کیا تھا کہ جس سے پوری نماز پڑھنا آپ کے لئے واجب ہو جاتا ۔ امام ابوبکر رحمه الله کہتے ہیں بروایت یحییٰ بن ابی اسحاق کی سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( مدینہ منوّرہ ) واپس لوٹنے تک ( سفر حج میں ) برابر دو رکعتیں پڑھتے رہے
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: Q2964
حدیث نمبر: 2964
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی حضر کی نماز چار رکعات اور سفر میں دو رکعات فرض کی ہے ۔ اس طرح سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے صراحت فرمادی کہ منیٰ میں مقیم شخص پر چار رکعات نماز فرض ہے جس طرح کے کسی دوسری جگہ پر مقیم شخص پرفرض ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2964
تخریج حدیث تقدم ۔۔۔
حدیث نمبر: 2965
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث کہ ابتدا میں جب نماز فرض ہوئی تو دو رکعات فرض ہوئی تھی ۔ پھر حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا گیا ( اور وہ چار رکعات ہوگئیں جبکہ مسافر کی نماز دو رکعات پڑھنا باقی رہیں ) یہ حدیث بھی صراحت کرتی ہے کہ مقیم شخص پرمنیٰ میں مکمّل نماز واجب ہے وہ قصر نماز نہیں پڑھ سکتا جبکہ وہ مقیم ہو اور مسافر نہ ہو ۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے کتاب الصلاة میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت کا معنی بیان کردیا ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایات میں واضح دلیل موجود ہے کہ اہل مکّہ اور مکّہ مکرّمہ میں مقیم ہونے والے شخص پر واجب ہے کہ وہ منیٰ میں مکمّل نماز ادا کریں کیونکہ وہ اب مقیم ہوچکے ہیں ، مسافر نہیں رہے اور مقیم پر چار رکعات نماز فرض ہے ۔ اس لئے کسی غیر مسافر شخص ، عدم جنگ کی وجہ سے خوفزدہ نہ ہونے والے شخص ، اہل مکّہ اور مکّہ مکرّمہ میں باہر سے آ کر مقیم ہو جانے والے شخص کے لئے نماز قصر کرنا جائز ہیں جبکہ وہ منیٰ کی طرف جائیں اور اُن کی نیت واپس مکّہ مکرّمہ آنے کی ہو ، اس طرح وہ مسافر نہیں ہوںگے لہٰذا اُن کے لئے منیٰ میں نماز قصر کرنا جائز نہیں ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2965
تخریج حدیث تقدم ۔۔۔