کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: جو شخص لا علمی میں حج کے مناسک آگے پیچھے کرلے
حدیث نمبر: Q2949
بِذِكْرِ خَبَرٍ مُخْتَصَرٍ غَيْرِ مُتَقَصٍّ، وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ لَا فِدْيَةَ لَهُ‏.‏
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اس بارے میں حدیث مختصر ذکر کی گئی ہے تفصیلی نہیں اور اس حدیث میں یہ دلیل بھی ہے کہ حج کے اعمال آگے پیچھے کرنے والے پر کوئی فدیہ نہیں ہے
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: Q2949
حدیث نمبر: 2949
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ ، فَقَالَ : حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ، قَالَ : " اذْبَحْ ، وَلا حَرَجَ " ، قَالَ : وَذَبَحَتْ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، قَالَ : " ارْمِ وَلا حَرَجَ " ، وَقَالَ الْمَخْزُومِيُّ فِي حَدِيثِهِ : إِنَّ رَجُلا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ، فَقَالَ أَيْضًا : ثُمَّ سَأَلَهُ آخَرُ ، فَقَالَ : نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا عبد الله بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ یوم النحر کو ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اُس نے عرض کیا کہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر کے بال منڈوا لیے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قربانی کرلو کوئی حرج نہیں ہے “ ایک اور شخص نے عرض کیا کہ میں نے رمی کر نے سے پہلے قربانی کرلی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی حرج نہیں اب رمی کرلو “ جناب مخزوی کی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو عرض کیا کہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوالیا ہے ۔ اور یہ الفاظ بھی بیان کیے کہ پھر ایک اور شخص نے آپ سے سوال کیا تو کہنے لگا ، میں نے رمی کرنے سے پہلے اونٹ نحر کرلیا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2949
تخریج حدیث صحيح بخاري
حدیث نمبر: 2950
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، وَالصَّنْعَانِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى ، فَيَقُولُ : " لا حَرَجَ ، لا حَرَجَ " ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ، فَقَالَ : " لا حَرَجَ " ، وَقَالَ : رَمَيْتُ بَعْدَ مَا أَمْسَيْتُ ، قَالَ : " لا حَرَجَ " . حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، بِمِثْلِهِ ، وَقَالَ : " اذْبَحْ وَلا حَرَجَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ قربانی والے دن منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگ سوال پوچھتے تو آپ فرماتے : ” کوئی حرج نہیں ( ترتیب میں غلطی پر ) کوئی حرج نہیں ۔ “ ایک شخص نے آپ سے سوال کیا تو عرض کیا کہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی حرج نہیں “ اور ایک شخص نے کہا کہ میں نے شام کے بعد کنکریاں ماری ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی حرج نہیں ہے ۔ “ جناب یزید بن زریع کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ” اب ذبح کرلو اور کوئی حرج نہیں ہے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2950
تخریج حدیث صحيح بخاري