کتب حدیثصحيح ابن خزيمهابوابباب: طواف زیارہ سے فارغ ہونے پر آبِ زمزم پینا مستحب ہے
حدیث نمبر: 2944
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ، وَقَالَ : ثُمَّ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَيْتِ يَعْنِي يَوْمَ النَّحْرِ ، فَأَتَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُمْ يَسْقُونَ عَلَى زَمْزَمَ ، فَقَالَ : " انْزَعُوا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَلَوْلا أَنْ يَغْلِبَكُمُ النَّاسُ عَلَى سِقَايَتِكُمْ لَنَزَعْتُ مَعَكُمْ " ، فَنَاوَلُوهُ دَلْوًا فَشَرِبَ مِنْهُ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب جعفر بن محمد اپنے والد گرامی محمد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، پھر طویل حدیث بیان کی اور فرمایا ، پھر قربانی والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف افاضہ کیا ۔ پھر آپ بنی عبدالمطلب کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ زمزم کے کنویں سے پانی پلا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے بنی عبدالمطلب ، پانی نکالو ، اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ لوگ تمھارے پانی پلانے پر تم پر غالب آ جائیں گے تو میں بھی تمھارے ساتھ کنویں سے پانی نکالتا ۔ چنانچہ اُنھوں نے پانی کا ایک ڈول آپ کو پیش کیا تو آپ نے اُس میں سے پیا ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2944
تخریج حدیث تقدم ۔۔۔
حدیث نمبر: 2945
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ دَلْوًا مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ قَائِمًا " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَرَادَ شَرِبَ مِنْ دَلْوٍ لا أَنَّهُ شَرِبَ الدَّلْوَ كُلَّهُ ، وَهَذَا مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي قَدْ أَعْلَمْتُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا أَنَّ اسْمَ الشَّيْءِ قَدْ يَقَعُ عَلَى بَعْضِ أَجْزَائِهِ كَقَوْلِهِ : وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ سورة الإسراء آية 110 ، فَأَوْقَعَ اسْمَ الصَّلاةِ عَلَى الْقِرَاءَةِ خَاصَّةً ، وَكَقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللَّهُ : " قَسَمْتُ الصَّلاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ " ، ثُمَّ ذَكَرَ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ خَاصَّةً ، فَأَوْقَعَ اسْمَ الصَّلاةِ عَلَى قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي الصَّلاةِ خَاصَّةً
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر ایک ڈول سے آب زمزم پیا ۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے ایک ڈول سے آب زمزم پیا ، یہ مطلب نہیں کہ پورا ڈول ہی پی لیا ۔ اور یہ بات اسی میں سے ہے جسے میں اپنی کتابوں میں کئی جگہ بیان کرچکا ہوں کہ بعض دفعہ کسی چیز کا نام لیکر اس کے کسی حصّے کو مراد لیا جاتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ « وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ » [ سورة الإسراء : 110 ] ’’ اور اپنی نماز زیادہ بلند آواز سے نہ پڑھیں “ اس طرح نماز کا لفظ صرف قراءت پر بولا گیا ہے ۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” میں نے اپنے اور اپنے بندے کے در میان نماز آدھی آدھی تقسیم کرلی ہے “ پھر سورة الفاتحة کا تذکرہ کیا ۔ اس طرح لفظ نماز سے نماز میں سورة الفاتحة پڑھنا مراد لیا ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها / حدیث: 2945
تخریج حدیث صحيح بخاري